حب (رپورٹر) وندر تحصیل سونمیانی میں تحصیل انتظامیہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ تحصیل دار وندر نے زمینداروں کے خلاف ڈنڈا اٹھا لیا زمینداروں پر زرعی ٹیکس لاگو ھو چکا ھے تحصیل آفس وندر کے کلرک جو شیڈول بتا رھے ھیں وہ سمجھ سے بالا تر ھے کل آمدنی زمیندار کی بجائے کلرک خود طے کرے گا زمیندار کے اخراجات کی کٹوتی بچت پر ٹیکس لاگو ھونا چاھیئے مگر وندر میں اس طرح نہیں ھے دوسری بات کتنے فی صد ٹیکس ھوگا یہ بھی واضح نہیں تیسری بات جو بتائی جارھی ھے وہ یہ کہ ٹیکس پندرہ فی صد سے پینتالیس فی صد ٹیکس ھوگا یہ مثال کہیں بھی نہیں ملتی دنیا میں زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں ھے ایران ھمارا پڑوسی ملک ھے وھاں زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں ھے بلکہ حکومت زراعت کے لئیے ڈیزل تیل ادویات مفت فراہم کرتی ھے اگر زرعی اجناس کی منڈی میں قیمتیں کم ھو جائیں اور زمیندار کو نقصان کا اندیشہ ھو اس صورت میں حکومت سبسڈی پر خود خریدتی ھے بلوچستان میں کوئی نہری نظام نہیں ھے زمینداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹیوب ویل بور وغیرہ خود لگائے ھیں بجلی پر سبسڈی ختم کردی گئی ھے سولر منتقلی پر لسبیلہ حب میں کوئی عمل نہیں ھوا ھے بلوچستان میں روزگار کے زرائع بھی نہ ھونے کے برابر ھیں تھوڑی بہت گلہ بانی اور زمینداری ٹیوب ویل یا بارانی ھوتی ھے اس پر بھی بھاری ٹیکس عائد ھونا ناانصافی اور ظلم ھے ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں زمینداروں کو سولر پلیٹیں مشینیں ضبط کرنے اور اراضیات پر بینڈ لگانے بلکہ قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے اور نام فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی زیر لب دھمکی دی جارھی ھے بلوچستان اسمبلی میں جو ایم پی اے حضرات بیٹھے ھیں اس ظالمانہ ٹیکس کے خلاف لب کشائی کرکے اس ٹیکس کو بلوچستان کے حالات کو دیکھتے ھوئے کم سے کم رکھنے کی کوشش کریں-
منجانب کامریڈ سلیم بلوچ ضلعی جنرل سیکریٹری نیشنل پارٹی ضلع حب

