نیشنل پارٹی ضلع حب کا بیان: بلوچستان میں حکومت کے اقدامات عوام کے مفاد کے خلاف

وندر (رپورٹر) بلوچستان میں موجودہ حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے بعد اس حکومت نے اب تک جتنے بھی اقدامات کئیے ھیں اس میں زیادہ تر سب عوامی مفادات کے خلاف ھیں ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی ضلع حب کے ضلعی جنرل سیکریٹری کامریڈ سلیم بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کیا انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے عوام کو احتجاج کے جمہوری حق سے محروم کیا گیا بلدیاتی الیکشن میں اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا ماورائے آئین جبری گمشدگیوں میں اضافہ ھوا خواتین کی جبری گمشدگیوں کے واقعات سامنے آئے سیاسی کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالنا بجلی اور گیس کی فراھمی میں بھی بڑی حد ناکامی بارڈر ٹریڈ کی بندش بیس لاکھ لوگوں کے روز گار پر قدغن سرکاری ملازمتوں میں بھرتی میں کرپشن آسامیوں کی خرید و فروخت مائینز اینڈ منرل بل کے زریعےبلوچستان کے لوگوں کو ان کے قدرتی حق سے محروم کرنا اس کے بعد بلوچستان کے لوگوں کے پاس زندگی گزارنے روزی روٹی کمانے کے لیے دو زرائع رہ جاتے ھیں ایک زراعت اور دوسرا گلہ بانی بلوچستان میں زراعت کے تین درجات ھیں ایک نہری آبادی دوسرا ٹیوب ویل تیسرا بارانی آبادی جس کا انحصار بارشوں پر ھےاس روز گار کے آخری زریعے پر بھی بھاری ٹیکس لگا کر زمینداروں بزگروں کھیت مزدوروں کے لئے بھی جینا مشکل بنا دیا گیا ھے سبسڈی ختم کی گئی ھے عجیب بات ھے کہ حکومت بلوچستان نے ٹیوب ویل سولرائز کرنے کے لیئے بیس بیس لاکھ روپے فی ٹیوب ویل کو دینے تھے وہ بھی لسبیلہ حب اور آواران کو نہیں دئیے گئے ھیں ان تینوں اضلاع کے مرکز میں نمائیندے جناب جام کمال خان عالیانی صاحب ھیں جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ھے ضلع حب کے ایم پی اے میر علی حسن زھری جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے ھےلسبیلہ سے میر زرین خان مگسی صاحب ھیں یہ دونوں صوبائی حکومت میں وزیر ھیں جبکہ آواران سے خیر جان بلوچ صاحب جن کا تعلق نیشنل پارٹی سے ھے وہ اپوزیشن میں ھیں اپوزیشن نے زرعی ٹیکس کی مخالفت کی تھی حکومتی نمائندے اور اپوزیشن مل کر ایک سنجیدہ پالیسی بنائیں اور زراعت پر ٹیکس ختم کریں یا پھر اس کو کم از کم کریں اس وقت جو ٹیکس لگایا گیا ھے یہ ٹیکس نہیں بلکہ حکومت کو زمیندار کے ساتھ منافع میں شراکت دار بنایا گیا ھے جبکہ نقصان میں سرکار شامل نہیں لوگوں کو ھر طرح سے اتنا پریشان کیا جارھا ھے کہ لوگ نظام اور ریاست سے بیزار ھو رھے ھیں اس وقت بلوچستان میں پہلے ھی حالات اچھے نہیں ھیں ان حالات میں حکومت کو۔ چاھیئے کہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے تاکہ اعتماد سازی کا ایک ماحول پیدا ھو اور امن وامان کے حوالے سے بھی کوئی راہ نکل آئے

اپنا تبصرہ بھیجیں