کوئٹہ(این این آئی) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ تاجر ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن حکومت تاجروں کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے جس سے تاجر برادری سخت ذہنی ازیت میں مبتلا ہوچکی ہے اور تاجراپناکاروبار بند کرنے کا سوچ رہے ہیں جس کے ملک کی معیشت پر برے اثرات مرتب ہونگے، کوئٹہ شہر میں ضلعی انتظامیہ اورٹریفک پولیس کی جانب سے زرنج رکشوں (چنگ چی) رکشوں پر پابندی کے فیصلے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے انتظامیہ زرنج رکشوں کو مناسب ٹیکس لیکر نمبر پلیٹ اورروٹ پرمٹ کا اجراء کرے تاکہ 10ہزار سے زائد لوگ بے روزگار ہونے سے بچ سکیں۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو حضرت علی اچکزئی،میر یاسین مینگل،عمران ترین،تاج آغا،باز محمد خلجی،حاجی فضل محمداچکزئی،اللہ داداچکزئی،محمد جان درویش،نعمت خان ترین،سیدنعمت آغا، عبدالعلی دمڑ،ضیاء الحق،حاجی سعید محمد،طور جان اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ رحیم کاکڑ نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس حکام کے کہنے پر شہرسے گدھا ریڑھیوں کا خاتمہ کیا گیا جس کے بعد سوزوکی والوں نے تاجروں سے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کیلئے ہزاروں روپے طلب کرنے شروع کردیئے کوئٹہ میں زرنج(چنگ چی)رکشوں کے آنے کے بعد تاجروں نے سکھ کا سانس لیا جن کی وجہ سے گوداموں سے دکانوں تک سامان گھنٹوں کی بجائے منٹوں میں سستے داموں پہنچنا شروع ہوگیااور لوگوں کو روزگار بھی ملااور ہزاروں گھروں کا چولہا زرنج رکشوں کی وجہ سے چلنا شروع ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ اب چانک ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے زرنج رکشوں (چنگ چی) پرپابندی عائد کرکے انکی پکڑ دھکڑ شروع کردی ہے جس سے 10ہزار سے زائد افرادبے روزگار ہوں اور10ہزار گھرانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خطرہ ہے حکومت اور ضلعی انتظامیہ لوگوں کو روزگار دینے کی بجائے انہیں بے روزگار کرنے پر تلی ہوئی ہے جو کسی بھی طرح درست اقدام نہیں ہے مرکزی انجمن تاجران کسی بھی صورت زرنج (چنگ چی) رکشوں کو بند کرنے کی اجازت نہیں دے گی ضلعی انتظامی،آر ٹی اے، ٹریفک پولیس زرنج رکشوں کو ضبط کرنے کی بجائے انہیں مناسب ٹیکس لیکر نمبر پلیٹ دے اورانہیں لیگل کیا جائے تاکہ بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہونے سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تاجر دیگر صوبوں سے اشیاء خوردونوش اوردیگرسامان منگوتے ہیں شہرکے اندر بڑے بڑے گودام نہ ہونے کی وجہ سے تاجر اپنا سامان شہر کے اطراف میں واقع گوداموں میں رکھتے ہیں جہاں سے زرنج رکشوں کے ذریعے یہ سامان دکانوں کو سپلائی کیا جاتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار میسر ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں اتنی سوزوکیاں نہیں ہیں کہ تاجر اپنا سامان انکے ذریعے گوداموں سے دکانوں تک لائیں جبکہ سوزوکی والے من مانے کرایے طلب کرتے ہیں اور زرنج رکشوں کے ذریعے چند سو روپے کے عو ض سامان جلدی میں دکانوں تک پہنچ جاتا ہے اور کرایے کی بچت سے تاجروں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے اور وہ عوام کو مناسب قیمت پر سامان کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں اگر یہی سامان سوزوکی کے ذریعے لایا جائے تو کرایے کی مد میں بھاری رقم ادائیگی سے تاجروں اور عوام کی جیب پر بوجھ پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں چنگ چی (زرنج رکشوں) کو ٹیکس لیکر نمبرپلیٹ دی گئی ہیں جہاں کوئٹہ سے 10گنا زیادہ چنگ چی رکشے چلتے ہیں جبکہ کوئٹہ میں زرنج رکشوں پرپابندی سمجھ سے بالاتر ہے کوئٹہ میں زرنج رکشے والے رکشوں پر لوڈنگ اور ان لوڈنگ خود کرتے ہیں جبکہ سوزوکی مالکان دکانداروں سے مال لوڈ اور ان لوڈ کراتے ہیں چنگ چی رکشے تاجروں کی ضرورت ہے جن پرپابندی سے صرف اور صرف تاجران متاثر ہونگے ضلعی انتظامیہ جن چنگ چی رکشے والوں کو بے روزگار کر رہی ہے ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ نے ان 10ہزارسے زائد افراد کو روزگار دینے کا کوئی دوسرا بندوبست کیا ہے یا صرف انہیں بے روزگار کرکے گھروں کوبھیج رہے ہیں مرکزی انجمن تاجران زرنج رکشہ مالکان اورچلانے والوں کو یقین دہانی کراتی ہے کہ مرکزی انجمن تاجران کسی بھی صورت زرنج رکشوں پر پابندی کے فیصلے کو قبول نہیں کریگی اگر انتظامیہ نے زور و زبردستی کرنے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت کریں گے۔انہوں نے کہاکہمرکزی انجمن تاجران بلوچستان وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی، پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی،کمشنر کوئٹہ،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ،سیکرٹری آرٹی اے اور ایس ایس پی سے مطالبہ کرتی ہے کہ کوئٹہ میں زرنج رکشوں (چنگ چی) پر پابندی کے فیصلے کو فوری طورپر واپس لیا جائے اورجن غریب لوگوں کے زرنج رکشے ضبط کئے گئے ہیں انہیں فوری طور پر واپس کیا جائے تاکہ 10ہزار سے زائد خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے سے بچ سکیں اگر حکومت اورانتظامیہ نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیاتو مرکزی انجمن تاجران بلوچستان سخت احتجاج پر مجبور ہوگی جس کی تمام ترزمہ داری صوبائی حکومت،ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام پرعائد ہوگی۔

