افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں اور گاڑیوں کو واپس پاکستان آنے کی اجازت دی جائے،پشتون قومی،قبائلی جرگہ

کوئٹہ(این این آئی)پشتون قومی اورقبائلی جرگہ کے مرکزی کنوینئر خان امان اللہ خان اچکزئی،ملک عبدالخالق لالاغیبزئی نے کہا ہے کہ افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں اور گاڑیوں کو واپس پاکستان آنے کی اجازت دی جائے،کوئٹہ چمن قومی شاہراہ پرقائم چیک پوسٹوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ یہ بات انہوں نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان بارڈر پر لڑائی کے بعدتقریباً دو ماہ سے باب دوستی گیٹ بند ہوگیا ہے جسکی وجہ سے قانونی طریقے سے پاسپورٹ اور ویزے پر گئے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی شہری افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے پاسپورٹ ایکسپائر اور ویزے کی مدت ختم ہوچکی ہے اور لوگوں کے پاس پیسے بھی ختم ہوچکے ہیں انکے پاس کھانے پینے کیلئے بھی کچھ نہیں ہے جس کیوجہ سے وہ خود کشیاں کرنے پر مجبورہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارڈر بند ہونے کے باوجود مہاجرین کو واپس افغانستان جانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ افغانستان میں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد،ٹرک ڈرائیور،کنڈیکٹرز کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے وفاقی اور صوبائی حکومتیں فوری طور پراسکا نوٹس لیتے ہوئے افغانستان میں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد اور گاڑیوں کو واپس پاکستان آنے کی اجازت دے۔انہوں نے کہا کہ چمن سے کوئٹہ شہر تک قومی شاہراہ پر ایف سی،کسٹم،لیویز،پولیس کی 22چیک پوسٹیں قائم ہیں جہاں تلاشی کے بہانے شہریوں اور عورتوں کی تذلیل کی جاتی ہے جس کی پشتون قومی اورقبائلی جرگہ مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ بارڈر مکمل طور پر بند ہوچکا ہے ان چیک پوسٹوں کے قیام کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے حکومت فوری طور پر چیک پوسٹوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں