لسبیلہ :تحصیل لاکھڑا لاوارث؟ ترقیاتی کاموں سے مسلسل نظرانداز

لسبیلہ(بیوروچیف حفیظ دانش) تحصیل لاکھڑا، ضلع لسبیلہ کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اوتھل سے محض 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، مگر اس کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتی ہے۔ تحصیل لاکھڑا میں زیادہ تر زراعت بارانی پانی پر منحصر ہے، البتہ چند علاقوں جیسے چانکارہ میں بورز کے ذریعے زرعی نظام چل رہا ہے۔تحصیل لاکھڑا کی سڑک اس وقت انتہائی خستہ حال ہوچکی ہے اور سفر کے قابل نہیں رہی۔ یہاں سے منتخب ہوکر اسمبلی تک پہنچنے والی جام خاندان کی قیادت کے باوجود، علاقے کی حالت میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آ سکی۔ سڑک پر مٹی اور گرد و غبار اس قدر ہے کہ لاکھڑا سے اوتھل پہنچنے والے شہری بازار یا کسی آفس جانے کے بجائے پہلے کسی مسجد میں ہاتھ منہ دھونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔لاکھڑا روڈ پر سفر جو چند منٹوں میں طے ہونا چاہیے، اب گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عوام شدید اذیت کا شکار ہیں۔ لاکھڑا کی عوام اس خستہ حال سڑک سے مکمل طور پر تنگ آ چکی ہے۔لسبیلہ کے رکنِ صوبائی اسمبلی میر زرین خان مگسی چند ماہ قبل یوسی چیئرمین لاکھڑا وڈیرہ مولابخش گنگو کی دعوت پر علاقے کا دورہ کر چکے ہیں اور سڑک کی ناگفتہ بہ حالت خود دیکھ چکے ہیں۔ عوام کو امید ہے کہ وہ لاکھڑا کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سڑک کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات کریں گے لاکھڑا کے عوامی حلقوں نے وفاقی وزیر تجارت نواب جام کمال خان عالیانی اور سیکریٹری پارلیمانی امور میر زرین خان مگسی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لاکھڑا روڈ کی فوری تعمیر کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو سفر میں آسانی میسر آ سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں