کوئٹہ(این این آئی) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمارے زرعی شعبے کو ایک اہم چیلنج کا سامنا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہمارے زمیندار اور کسان ایک سال اگر اپنے باغات اور کھیتوں سے خاطر خواہ منافع کمانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر اکثر دوسرے سال ان ہی پھلوں اور سبزیوں کیلئے خریدار تلاش کرنے میں ناکام رہ جاتے ہیں. حالانکہ منفرد ذائقہ اور معیار کی وجہ بلوچستان کے تازہ پھلوں، خشک میوہ جات اور سبزیوں کی ہر وقت پورے خطے میں مانگ بھی زیادہ رہتی ہے۔ یہ منقطع ایگریکلچرل مارکیٹ میں توازن لانے کیلئے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ نئے سال 2026 کے دوران بیوٹمز یونیورسٹی میں زراعت کے حوالے سے نیشنل ایگریکلچرل سیمنار اور زرعی نمائش کا فیصلہ بہت دانشمندانہ ہے جس کے پورے صوبے میں بڑے مثبت نتائج برآمد ہونگے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں سیکرٹری ٹریڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی شہریار تاج سے بات چیت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک اور صوبے میں زرعی شعبہ اب بھی زیادہ تر روایتی طریقوں اور ذرائع پر انحصار کرتا ہے جو زراعت کی ترقی اور پیداواری صلاحیت میں رکاوٹ ہیں۔ اس سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ جدید سائنٹفک طریقوں اور تکنیکوں کو متعارف کرایا جائے جو فصل کی پیداوار کو بڑھا سکیں، بیماریوں کے خلاف مزاحمت کو بہتر بنا سکیں اور کارکردگی میں اضافہ کر سکیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمارے کسانوں اور زمینداروں کو ان جدید طریقوں سے آگاہ کرنا اور ان کی تربیت کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے اور انہیں بہترین طریقوں کو اپنانے کے قابل بنایا جا سکے۔ اسطرح ہم زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں، غذائی تحفظ کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اپنی دیہی برادریوں کی مجموعی بہبود کو بڑھا کر ان کے معیار زندگی بڑھا سکتے ہیں۔

