زمینداروں کو زیتون و دیگر کے لئے ایکسپورٹ اینڈ امپورٹ بنک سے مالی مدد مل سکتی ہے،شہریار خان

کوئٹہ(این این آئی)سیکرٹری ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)شہریار خان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ماہ اگست یا ستمبر میں زرعی نمائش کا انعقاد کرکے صوبے میں کاشت کی جانے والی میوہ جات اور سبزیوں بارے لوگوں کو جانکاری دیں گے،ہم بلوچستان کے زیتون،سیب،پیاز، ٹماٹر و دیگر کی ویلیو ایڈیشن کرکے انہیں یورپی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے مارکیٹوں تک رسائی ممکن بنانے کیلئے ان کی سرٹیفیکیشن اور فوڈ سیفٹی بارے درکار لوازمات پورے کریں گے اس سلسلے میں گورنر بلوچستان،صوبائی سیکرٹری زراعت ودیگر سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے،کراچی میں ہونے والی زرعی نمائش کی بدولت ہمیں 52 ملین ڈالرز کی ڈیمانڈز مل چکی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ سیشن کے شرکاء سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی،زمیندار ایکشن کمیٹی کے محمد کاظم خان اچکزئی،سید صدیق اللہ آغاو دیگر نے اظہار خیال کیا اور کہا کہ بلوچستان میں زیتون و دیگر کی ویلیو ایڈیشن کیلئے مشینری کی ضرورت ہے ہماری تجویز ہے کہ مختلف اضلاع میں 30 مشینیں نصب کی جائیں،انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ فروٹس اور ویجی ٹیبلز کا معاہدہ دراصل بلوچستان کے زمینداروں کے استحصال کا معاہدہ تھا ایسے معاہدوں سے قبل اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں زیتون اور زعفران کی کاشت اور سیب،پیاز،انگور و دیگر میوہ جات کی ویلیو ایڈیشن کی ضرورت کے مطابق اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر سیکرٹری ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) شہریار خان اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی(PHDEC)کے حمزہ ناصر اور ڈاکٹر جمیل کا کہنا تھا کہ ان کا صوبائی حکومتوں کے ساتھ زیتون ودیگر کی ویلیو ایڈیشن اور سرٹیفیکیشن بابت 3سالہ منصوبے بابت گفت و شنید ہو چکی ہم ماہ اگست یا ستمبر میں بیوٹمز یونیورسٹی میں بلوچستان میں زرعی نمائش کریں گے تاکہ لوگوں کو یہاں کے زیتون و دیگر میوہ جات و سبزیوں بارے آگاہی مل سکے اس سلسلے میں ہماری گورنر بلوچستان،سیکرٹری زراعت و دیگر سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے ہم بلوچستان میں مختلف پروجیکٹس کیلئے معاونت کر رہے ہیں ہماری کوشش ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی زیتون،سیب،کھجور،انگور،چیری و دیگر میوہ جات کی سرٹیفیکیشن اور فوڈ سیفٹی کیلئے درکار لوازمات پورے ہوں اور پھر انہیں یورپی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے مارکیٹوں تک رسائی دلائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ (PHDEC)کا آفس بھی جلد کوئٹہ میں کھولا جا رہا ہے انہوں نے بتایا کہ زمینداروں کو زیتون و دیگر کے لئے ایکسپورٹ اینڈ امپورٹ بنک سے مالی مدد مل سکتی ہے اس وقت ویلیوایڈیشن پروجیکٹس ضلع پشین،کوئٹہ،آواران،پنجگور میں جاری ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ان کی ضلع موسیٰ خیل اور لورالائی کے زیتون کے کاشتکاروں کے ساتھ سیشن ہو چکا ہے ہم مزید سیشنز کا انعقاد کر کے صوبے کے زمینداروں کو آگاہی فراہم کریں گے۔آخر میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کی جانب سے مہمانان کو یاد گاری شیلڈز پیش کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں