کوئٹہ (رپورٹر) رازق بگٹی کا شمار اُن رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے بلوچستان میں طلبہ سیاست اور جمہوری جدوجہد کو فکری سمت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے چیئرمین رہے اور بعد ازاں پاکستان نیشنل پارٹی (پی این پی) کے پلیٹ فارم سے بھی متحرک سیاست میں حصہ لیا۔ ان کی سیاسی جدوجہد کا مرکز تعلیم، قومی شناخت، آئینی حقوق اور پُرامن سیاسی عمل رہا۔
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے رازق بگٹی نے طلبہ کو منظم کرنے، تعلیمی مسائل اجاگر کرنے اور سیاسی شعور بیدار کرنے پر زور دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم یافتہ نوجوان ہی بلوچستان کے مسائل کو جمہوری اور آئینی دائرے میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بی ایس او کے ذریعے انہوں نے طلبہ کو مکالمے، تنظیم سازی اور پُرامن احتجاج جیسے جمہوری طریقوں کی طرف راغب کیا۔
پاکستان نیشنل پارٹی سے وابستگی کے دوران رازق بگٹی نے بلوچ سیاست کو قومی دھارے میں لانے، جمہوری سیاست کے ذریعے حقوق کے حصول اور وفاق کے اندر رہتے ہوئے مسائل کے حل کی وکالت کی۔ ان کی تقاریر اور تحریروں میں جمہوریت، قومی خودمختاری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انسانی حقوق جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ وہ تشدد کے بجائے سیاسی مکالمے اور آئینی جدوجہد کے حامی تھے۔
رازق بگٹی کی سیاست میں اصول پسندی اور عوامی رابطہ خاص اہمیت رکھتا تھا۔ وہ نوجوانوں کو سیاست سے جوڑنے، طلبہ یونینز کی بحالی اور تعلیمی اداروں میں مثبت سیاسی سرگرمیوں کے فروغ کے خواہاں تھے۔ ان کی سوچ نے بہت سے نوجوانوں کو سماجی اور سیاسی طور پر متحرک ہونے کی ترغیب دی۔
مختصراً، رازق بگٹی ایک ایسے سیاسی رہنما کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جنہوں نے بلوچ طلبہ سیاست اور جمہوری جدوجہد کو فکری بنیاد فراہم کی۔ ان کا پیغام آج بھی یہ ہے کہ تعلیم، تنظیم اور پُرامن سیاسی عمل ہی پائیدار تبدیلی کا راستہ ہیں۔

