لورالائی(میاں محمد عامر بشیر آرائیں) وزیراعلیٰ بلوچستان کے خصوصی ترقیاتی پیکج (سی ایم پیکج) کے تحت کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے بیشتر ترقیاتی منصوبے اپنی تکمیل کے چند ہی عرصے بعد زبوں حالی کا شکار ہو چکے ہیں۔ منصوبوں کا مقصد شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا تھا، مگر ناقص منصوبہ بندی، غیر معیاری تعمیرات اور عدم نگرانی کے باعث یہ منصوبے عوام کے لیے وبالِ جان بن گئے ہیں۔شہر کے مختلف علاقوں میں تعمیر کیا گیا سیوریج سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ بارش کے معمولی سلسلے کے بعد ہی نالیاں اور سیوریج لائنیں ابل پڑتی ہیں، جس سے گندا پانی گھروں، گلیوں اور سڑکوں پر جمع ہو جاتا ہے۔ شدید بدبو اور گندگی کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مچھروں اور مکھیوں کی افزائش سے ملیریا، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ سیوریج لائنوں میں ناقص پائپ استعمال کیے گئے، لائنوں کی گہرائی اور ڈھلوان تکنیکی معیار کے مطابق نہیں رکھی گئی اور نکاسیٔ آب کے لیے مناسب آؤٹ لیٹس بھی فراہم نہیں کیے گئے۔ ان خامیوں کے باعث پورا نظام ناکارہ ہو گیا ہے۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ منصوبوں کی منظوری سے لے کر تکمیل تک شفافیت کا فقدان رہا اور مبینہ طور پر کرپشن کے ذریعے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔عوامی حلقوں نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ سی ایم پیکج کے تحت تعمیر کی گئی سڑکیں اور گلیاں بھی جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، سیوریج کا گندا پانی سڑکوں کو مزید تباہ کر رہا ہے جس سے آمدورفت میں شدید مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ کاروباری حضرات اور طلبہ سمیت عام شہری روزانہ کی بنیاد پر اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔شہریوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری، محکمہ بلدیات اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سی ایم پیکج کے تحت تعمیر ہونے والے تمام منصوبوں کا فوری طور پر غیر جانبدارانہ آڈٹ کرایا جائے، ناقص تعمیرات کے ذمہ دار ٹھیکیداروں اور افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ناکام سیوریج سسٹم کی ازسرِنو تکنیکی بنیادوں پر تعمیر کی جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔ بصورتِ دیگر شہری احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

