افغان مہاجرین کی وطن واپسی مہم سست روی کا شکار، شہروں کے مختلف علاقوں میں کاروبار بدستور جاری

لورالائی(میاں محمد عامر بشیر آرائیں) حکومتِ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے اعلان اور متعدد ڈیڈ لائنز کے باوجود عملی اقدامات مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ وطن واپسی مہم کی سست روی کے باعث شہروں کے مختلف علاقوں میں افغان مہاجرین بڑی تعداد میں تاحال مقیم ہیں اور بعض مقامات پر وہ دیدہ دلیری سے کاروباری سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، جس پر مقامی شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق بازاروں، بس اڈوں، تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں افغان مہاجرین کی دکانیں، گودام اور دیگر چھوٹے بڑے کاروبار بدستور فعال ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف مقامی تاجروں اور مزدوروں کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ انتظامی رٹ بھی کمزور دکھائی دے رہی ہے۔عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ حکومت نے مہاجرین کی واپسی کے لیے واضح پالیسی تو متعارف کروائی، تاہم متعلقہ اداروں کی جانب سے مؤثر نگرانی اور یکساں عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ مہم سست روی کا شکار ہو گئی ہے۔ بعض شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کارروائیاں صرف کاغذی حد تک محدود ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔شہریوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم مہاجرین کی موجودگی سے امن و امان، کاروباری مقابلے اور شہری سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان مہاجرین کی مرحلہ وار مگر تیز رفتار واپسی کو یقینی بنایا جائے، غیر قانونی کاروبار فوری طور پر بند کرائے جائیں اور حکومتی فیصلوں پر بلاامتیاز عملدرآمد کیا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر وطن واپسی مہم کو مزید مؤثر نہ بنایا گیا تو عوام میں بے چینی بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں