ڈیرہ مراد جمالی(رپورٹ محمد یونس عمرانی) سردار اللّٰہ بخش خان عمرانی کے مسئلے کو بنیاد بنا کر ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر سیاست کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، جس پر میر عابد علی عمرانی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایک واضح پیغام میں کہا گیا ہے کہ ایسے تمام افراد جو قوم اور سردار خاندان سے باہر کے ہیں، وہ اس معاملے سے دور رہیں۔ سردار اللّٰہ بخش خان عمرانی کا مسئلہ ایک قبائلی اور اندرونی معاملہ ہے، وہ ہماری مائیں اور ہماری بہنیں ہیں جس پر قوم کے سردار، میر سرکردہ اور معتبرین نہ صرف مکمل باخبر ہیں بلکہ مسئلے کے حل کے لیے سنجیدگی سے کوششوں میں مصروف ہیں۔میر عابد علی عمرانی نے کہ کچھ لوگ اس مسئلے کو سیاسی رنگ دے کر قوم میں اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سردار گھرانے کی عزت و وقار اور روایات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، اور کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ نفرت کی سیاست کے ذریعے اس معاملے کو خراب کرے۔قوم سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی منفی باتوں پر دھیان نہ دیں، اور سردار و معتبرین پر مکمل اعتماد رکھیں۔ایک واضح اور دوٹوک پیغام میں قبائلی و سماجی رہنما نے ان عناصر کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ “آج جو لوگ سردار اللّٰہ بخش خان عمرانی کے معاملے پر ہمدردی کا ڈرامہ رچا رہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ماضی میں منجھو برادری اور رڈ برادری کے ساتھ شدید ظلم و زیادتی کی، ان کی زرعی زمینوں پر ناجائز قبضے کیے، اور مظلوموں کو اتنا مجبور کیا کہ انہوں نے قرآن پاک اٹھا کر انصاف کی دہائی دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت یہ نام نہاد ہمدرد اور مذمت کرنے والے کہاں تھے؟ کیوں اس ظلم پر خاموشی اختیار کی گئی؟ کیا مظلوم کے حق میں بولنے کا وقت، برادری یا مفاد دیکھ کر طے کیا جاتا ہے؟ میر عابد علی عمرانی نے کہا کہ یہ دوغلا پن قوم میں نفرت پیدا کرنے کی سازش ہے، جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ قوم سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو قبائلی معاملات میں مداخلت کر کے سیاسی فائدے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

