کوئٹہ (رپورٹر) ڈاکٹر کہور خان بلوچ کی رحلت محض ایک شخص کے بچھڑ جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک پورے فکری عہد، ایک شعوری روایت اور ایک زندہ تحریک کا عظیم نقصان ہے۔ وہ ان نابغۂ روزگار شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے علم کو محض ڈگری تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے شعور، دلیل اور سماجی ذمہ داری سے جوڑ کر نوجوان نسل کی فکری تربیت کی۔
جامشورو میڈیکل یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ڈاکٹر کہور خان بلوچ نے بطور طالب علم ہی اپنی فکری سمت کا تعین کر لیا تھا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (صہب) کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے طلبہ سیاست کو نعروں کے شور سے نکال کر نظریاتی گہرائی، مکالمے اور تنظیمی شعور سے آشنا کیا۔ بعد ازاں نیشنل پارٹی کے نظریاتی سرگرمیوں کی تشکیل میں ان کا کردار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ سیاست کو اقتدار نہیں بلکہ خدمت، اصول اور عوامی شعور کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
ڈاکٹر کہور خان بلوچ کی سب سے نمایاں پہچان نوجوانوں کو پروگریسیو سوچ، سوال کرنے کے حوصلے اور دلیل کی سیاست سے جوڑنا تھی۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ اصل تبدیلی نہ تو تشدد سے آتی ہے اور نہ ہی وقتی جذباتی نعروں سے، بلکہ مستقل فکری جدوجہد، مکالمے اور منظم سیاسی عمل ہی معاشرے کو آگے لے جا سکتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے خاموش ذہنوں میں سوالات جگائے، جمود کو توڑا اور خوف کے حصار میں جکڑی سوچ کو آزادی کی راہ دکھائی۔
اگرچہ آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی فکر، ان کی تحریریں اور ان کی جدوجہد آج بھی زندہ ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں، شاگردوں اور نظریاتی رفقا کے دلوں میں ایک روشن چراغ کی مانند موجود ہیں، جس کی روشنی وقت کی گرد سے مدھم نہیں ہو سکتی۔ زندگی نے شاید ان سے وفا نہ کی، مگر تاریخ اور اجتماعی شعور نے انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا ہے۔
ڈاکٹر کہور خان بلوچ واقعی ایک ایسا چراغ تھے جو بجھا نہیں—بلکہ اپنی روشنی آنے والی نسلوں تک منتقل کر گئے۔ ان کا فکری ورثہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں افراد سے نہیں، بلکہ نظریات، شعور اور مسلسل جدوجہد سے زندہ رہتی ہیں۔

