لسبیلہ(بیوروچیف) اوتھل و گرد و نواح میں عوامی حلقوں کی جانب سے سی آئی اے انچارج بیلہ لاکھڑا کی کارکردگی پر سخت تحفظات اور مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی شکایات کے مطابق جب سے مذکورہ انچارج کو بیلہ و لاکھڑا تعینات کیا گیا ہے، علاقے میں بدعنوانی، بھتہ خوری اور اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیارو چیک پوسٹ، جو کہ سیکیورٹی اور چیکنگ کا اہم مقام ہے، اب بھتہ خوری کا مرکز اور *اسمگل شدہ چھالیوں کا مین ڈمپنگ اسٹیشن بن چکا ہے۔ مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بیلہ اور لاکھڑا کے علاقے اس وقت ایرانی تیل کی اسمگلنگ کا گڑھ بن چکے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا مبینہ طور پر اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سی آئی اے انچارج نے تمام سابقہ بھتہ خوری کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، اور ان کی تعیناتی کے بعد علاقے میں جرائم پیشہ عناصر مزید متحرک ہوگئے ہیں عوامی حلقوں نے آئی جی بلوچستان اور ڈی آئی جی قلات رینج وزیر ناصر خان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ افسر کے خلاف فوری انکوائری کا آغاز کیا جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو اسے فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر قانونی کارروائی کی جائے تاکہ علاقے میں امن و امان کی فضا بحال ہو اور عوام کا اعتماد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بحال ہو سکے۔

