پسنی (رپورٹر) پسنی میں اہلیانِ شہر کے مسائل کے حل کے لیے منعقدہ کھلی کچہری کے دوران ماہی گیری کے شعبے سے جڑے اہم اور حساس معاملات کھل کر سامنے آئے۔
کھلی کچہری میں غیر مقامی سندھی ماہی گیروں کو پسنی میں روزگار کرنے سے روکنے کے فیصلے پر انجمنِ تاجران، فش کمپنی مالکان اور کاروباری طبقے نے سخت تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ پسنی کی معیشت کا بڑا انحصار ماہی گیری اور فشریز کے کاروبار پر ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ غیر مقامی ماہی گیروں پر پابندی کے باعث ماہی گیری کی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں فش کمپنیوں، آئس فیکٹریوں، ٹرانسپورٹ، مزدوروں اور مقامی بازاروں کا کاروبار شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے۔
کھلی کچہری کے دوران انجمنِ تاجران کے جنرل سیکریٹری نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقامی ماہی گیروں کو روکنے کی وجہ سے پسنی کی معیشت دن بہ دن کمزور ہو رہی ہے، اور اگر صورتحال برقرار رہی تو شہر میں بے روزگاری اور معاشی بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس موقع پر مقامی ناخدا عنایت بلوچ نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ
“پسنی کے مقامی سیٹھ، اور بیوپاری ہمارے بھائی ہیں، اور ہم سب ایک ہی شہر کے باشندے ہیں۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ آپس میں بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے کوئی ایسا حل تلاش کیا جائے جس سے نہ کسی کا روزگار متاثر ہو اور نہ ہی شہر کی معیشت کو نقصان پہنچے۔”
ناخدا عنایت بلوچ کا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل تصادم یا پابندیوں میں نہیں بلکہ مشاورت، اتفاقِ رائے اور مشترکہ فیصلوں میں ہے، تاکہ ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ تمام فریق مطمئن ہو سکیں۔
شرکاء نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مقامی اور غیر مقامی ماہی گیروں کے مسئلے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایک جامع اور متوازن پالیسی تشکیل دی جائے، جو مقامی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پسنی کی معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کو بھی یقینی بنائے۔
کھلی کچہری کے اختتام پر عوام نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ اس حساس مسئلے پر سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے گی، تاکہ پسنی کو درپیش معاشی مشکلات کا دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔

