معمولی بارش نے ایک بار پھر ضلعی انتظامیہ، حکومت کے ترقیاتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے،مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ (این این آئی) جمعیتِ علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینیئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، مولانا محمد ایوب، مولانا محب اللہ، حافظ شبیر احمد مدنی، مولانا حفیظ اللہ، حاجی رحمت اللہ کاکڑ، حاجی ظفر اللہ خان کاکڑ، حاجی ولی محمد بڑیچ، مفتی سعید احمد، مفتی روزی خان بادیزئی، صفی اللہ مینگل، مولانا محمد عارف شمشیر، مفتی رشید احمد، مولانا سعد اللہ آغا، عبد الباری شہزاد، مولانا جمال الدین حقانی، مفتی رضا خان، حاجی عطاء محمد شمشوزئی اور دیگر رہنماؤں نے مشترکہ اخباری بیان میں بارش کے بعد شہر کوئٹہ کی بدترین صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کی نااہلی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ معمولی بارش نے ایک بار پھر ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے تمام ترقیاتی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ نالیوں کی بندش، سڑکوں پر جمع کچرے کے ڈھیر، تعفن، گندگی اور سیوریج کے پانی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ وبائی امراض پھوٹنے کا شدید خدشہ پیدا ہوچکا ہے، لیکن ذمہ دار ادارے محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے کہا کہ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، گیس پریشر میں خطرناک حد تک کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے عوام کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ شہری بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، مگر صوبائی حکومت ہو یا ضلعی انتظامیہ، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ کے شہری ہرقسم کے ناروا بلزکی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ٹیکس بھی دیتے ہیں مگر بدلے میں انہیں گندگی، بدانتظامی اور لاپرواہی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ نالوں کی بروقت صفائی، کچرے کی منتقلی، نکاسی? آب کے مؤثر انتظامات اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کرنا صریح مجرمانہ غفلت ہے۔جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شہر بھر میں نالیوں کی صفائی، کچرے کی ہنگامی منتقلی، بجلی اور گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف عملی کارروائی کی جائے۔ بصورت دیگر جمعیت علماء اسلام عوام کے ہمراہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں