کمشنر سبی کے پرسنل سیکریٹری پر غیر قانونی بھرتیوں کا الزام، میر فرید خان رئیسانی کا انکشاف

سبی(رپورٹر)کمشنر آفس سبی کے سامنے محکمہ ریونیو کی آسامیوں پر بھرتیوں میں میرٹ کی سنگین پامالی، اقربا پروری اور بدعنوانی کے خلاف احتجاج مظاہرہ دھرنا دیا گیا٬تفصیلات کے مطابق کمشنر آفس سبی ڈویژن کے سامنے محکمہ ریونیو میں کھلی اقربا پروری، میرٹ کی دھجیاں اڑانے اور مبینہ طور پر تقریباً 18 کروڑ روپے کی بدعنوانی کے انکشافات کے خلاف احتجاج کرنے کے بعد دھرنا دیا گیا شرکاء سے خطاب میں مقررین نے الزام عائد کیا کہ صوبائی وزیر ریونیو کو بائی پاس کرتے ہوئے غیر قانونی تعیناتیاں کی گئیں کمشنرسبی کے پرسنل سیکریٹری نے اپنے پانچ قریبی رشتہ داروں کو ناجائز طور پر بھرتیاں کر کے میرٹ کا جنازہ نکال دیا یہ عمل نہ صرف آئین، قانون اور قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ صوبے کے تعلیم یافتہ اور اہل نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلا مذاق ہے دھرنے کی قیادت سابق نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان میر علی مردان ڈومکی کے فرزند نوجوان قیادت میر روحیل خان ڈومکی نے کی دھرنے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی رہنماء میر فریدخان رئیسانی٬پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر حاجی غلام رسول سیلاچی،ایم کیو ایم پاکستان کے ضلعی صدر میر سلیم خان مرغزانی سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات امیدوراوں اور شہریوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی دھرنے کے شرکاء سے صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو نے ٹیلی فونک رابطہ کرکےخطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحیثیت صوبائی وزیر ریونیو ان تعیناتیوں کو غیر قانونی قرار دیتاہوں کمشنر آفس سبی ڈویژن میں بھرتیوں میں ہمیں بائی پاس کرکے تعیناتیوں کا عمل مکمل کیاگیا جو کہا غیرقانونی عمل ہے صوبائی وزیر ریوینیو نے ان تعیناتیوں کو فوری طور پر معطل کرکے دوبارہ ٹیسٹ و انٹرویو کا مطالبہ کیا دھرنے میں موجودمقررین نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی صورت کسی کی حق تلفی برداشت نہیں کریں گے انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے ذمہ داران کے خلاف فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوۓ احتجاج کا دائرہ مذید وسیع کرنے کا اعلان کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں