بیلہ پولیس کے خلاف صحافیوں کا زبردست احتجاج، سراج علی شیخ کے مقدمات فوری ختم کرنے کا مطالبہ

لسبیلہ(بیوروچیف)وش نیوز کے رپورٹر سراج علی شیخ کے خلاف بیلہ پولیس کی جانب سے قائم کیے گئے جھوٹے اور من گھڑت مقدمات کے خلاف ارمابیل پریس کلب اوتھل کے سامنے صحافیوں نے زبردست اور بھرپور احتجاج کیا۔ احتجاج میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور بیلہ پولیس کے رویے کے خلاف سخت نعرے بازی کی، احتجاجی مظاہرے کے دوران صحافیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بیلہ پولیس کے خلاف نعرے، آزادیٔ صحافت کے حق میں مطالبات اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف نعرے درج تھے صحافیوں کا کہنا تھا کہ بیلہ پولیس کی جانب سے وش نیوز کے رپورٹر اور ارمابیل پریس کلب اوتھل کے رکن سراج علی شیخ کے خلاف مقدمات قائم کرنا سراسر ناانصافی اور آزادی اظہار رائے پر براہ راست حملہ ہے انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او بیلہ کی جانب سے سراج علی شیخ کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرنا قابل مذمت اور قابل افسوس عمل ہے صحافیوں کا واحد جرم سچ بولنا، عوامی مسائل اجاگر کرنا اور حقائق کو منظر عام پر لانا ہے مگر اس کے جواب میں انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مقررین نے کہا کہ بیلہ پولیس صحافیوں کو ہراساں کر کے اظہار رائے پر قدغن لگانا چاہتی ہے لیکن صحافی برادری ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہوگی انہوں نے واضح کیا کہ صحافت کوئی جرم نہیں بلکہ آئینی حق اور جمہوریت کا بنیادی ستون ہے، اور صحافیوں کو دبانے کی ہر کوشش آزادی صحافت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔صحافیوں نے ڈی آئی جی قلات اور آئی جی بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ صحافی سراج علی شیخ کے خلاف قائم تمام جھوٹے مقدمات فوری طور پر ختم کرکے صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور پولیس کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کا پابند بنایا جائے جبکہ واقعے میں ملوث ایس ایچ او بیلہ کے خلاف غیرجانبدارانہ انکوائری کر کے کارروائی کی جائے انہوں نے کہا کہ اگر صحافیوں کو انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا اور معاملہ اعلیٰ حکام صوبائی حکومت اور انسانی حقوق کے اداروں تک لے جایا جائے گا، احتجاج کے اختتام پر صحافیوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ حق اور سچ کی آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی بھی دباؤ، دھمکی یا جھوٹے مقدمات کے ذریعے صحافت کے مقدس فریضے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں