کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے اور صوبائی آفس سیکریٹری ندا سنگر نے کہا ہے کہ پارٹی کے زیرِ اہتمام کیسکو کے ناروا طرزِ عمل، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گیس کی بندش اور چیک پوسٹوں پر عوام سے توہین امیز سلوک اور پیٹرول کے کاروبار کے بندش کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے کے تحت کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں پارٹی کے مرکزی سینئر سیکریٹری سید عبدالقادر آغا ایڈوکیٹ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، صوبائی سیکریٹری فقیر خوشحال کاسی، صوبائی ایگزیکٹیوز عبدالرزاق خان بڑیچ، رحمت اللہ صابر، علی محمد ترین، محمود ریاض،فیاض خان، حمداللہ خان بڑیچ، سید احسان آغا سمیت پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں اور عوام نے بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ جو صوبے کا دارالحکومت ہے اور جس کی آبادی کم و بیش چالیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، شدید سردی کے اس موسم میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گیس کی عدم فراہمی کے باعث جس اذیت اور مشکلات کا سامنا کر رہا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پارٹی کے کارکنان نے بلند آواز میں کوئٹہ میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نامنظور، گیس کی بندش نامنظور کے فلک شگاف نعرے لگائے اور حکومت، اوگرا اور کیسکو سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ سمیت پورے صوبے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ کوئٹہ کے تمام علاقوں میں سرد موسم کے دوران بجلی اور گیس کا نہ ہونا کسی عذابِ الٰہی سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1950 کی دہائی میں صوبے کے علاقے سوئی اور بعد ازاں زرغون غر میں گیس دریافت ہوئی، جس کے بعد ملک کے طول و عرض میں گیس کی فراہمی ممکن بنائی گئی، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی ہمارے صوبے کے چند اضلاع کے سوا بیشتر اضلاع گیس جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کے باعث عوام کو شدید مشکلات اور اذیت کا سامنا ہے، جبکہ بجلی کی صورتِ حال بھی نہایت تشویشناک اور ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ مقررین نے کہاکہ کیسکو نے صوبہ بھر میں بجلی کے انفراسٹرکچر کو دانستہ طور پر تباہ کیا ہے، متعدد فیڈرز مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں، بجلی کے پولز سے تاریں اتار دی گئی ہیں، حتیٰ کہ چشمہ سے آنے والی مین نیشنل لائن کے تاروں کی چوری کی وارداتیں بھی مبینہ طور پر کیسکو حکام کی مرضی اور غفلت سے ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فی الفور گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی کی احتجاجی تحریک کا آغاز یکم جنوری 2026 سے ہو چکا ہے، جبکہ 2 جنوری کو مسلم باغ اور دیگر اضلاع میں بھی کیسکو کے خلاف، چیک پوسٹوں پر عوام کے ساتھ ناروا سلوک، تذلیل آمیز رویّوں اور پیٹرول کے کاروبار کی بندش کے خلاف احتجاجی تحریک بھرپور انداز میں جاری رکھی جائے گی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ پشتونخوا نیپ ضلع سبی کے سینئر معاون سیکریٹری انجینئر صادق خان خجک جنہیں 25 مئی 2025 کو ریاستی اداروں نے اغوا کیا ہے انہیں بی الفور بازیاب کیا جائے اور فیڈرل لیویز فورس کے ملازمین کے مطالبات کو فی الفور تسلیم کیا جائے اور ائیر پورٹ روڈ کوئٹہ سے اغوا ہونے والی بچے کو بازیاب کیا جائے۔

