کوئٹہ (این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی نگرانی اور کنٹرول کے مؤثر نظام کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ سرحدی باڑ، جدید نگرانی کے آلات اور سرحدی گزرگاہوں پر سخت جانچ پڑتال نے دہشت گرد عناصر کی دراندازی کو بڑی حد تک روک دیا ہے۔ ماضی میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گرد کارروائیاں کرنے والے نیٹ ورکس کو سرحدی کنٹرول کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد دہشت گرد گروہوں کو بیرونی حمایت حاصل رہی، جن میں بھارت کی سرپرستی یافتہ عناصر بھی شامل تھے، تاہم سرحدی اقدامات نے ان کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔گزشتہ چند ماہ کے دوران افغانستان سے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔چیرمین قایمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بحال ہو رہے ہیں اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سرحدی نگرانی نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوئی ہے بلکہ اس نے ریاستی رٹ کو بھی مضبوط کیا ہے۔ بارڈر مینجمنٹ پالیسی نے غیر قانونی نقل و حرکت، اسمگلنگ اور عسکریت پسندوں کی رسد لائنز کو مؤثر طور پر کمزور کیا ہے۔ حکومتِ پاکستان سرحدوں کی بندش کی اس پالیسی کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھے۔ سرحدی کنٹرول کے تسلسل اور علاقائی تعاون کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی جانب مزید پیش رفت کر سکتا ہے۔ موجودہ پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ چکے ہیں، اس لیے قومی سلامتی کے مفاد میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر سخت نگرانی اور کنٹرول کو برقرار رکھا جائے۔

