کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، جنرل سیکرٹری حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد، حاجی بشیراحمد کاکڑ، شیخ مولانا عبدالاحد، حافظ دوست محمد مدنی، مولوی محمد سلیمان، حافظ رشید احمد، مولانا عبدالبصیر، حاجی نعمت اللہ اچکزئی، حافظ سراج الدین، رحیم الدین ایڈووکیٹ، میر حشمت لہڑی، مولوی رشید احمد حقانی اور دیگر رہنماؤں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں صوبائی حکومت کی ملازمین دشمن پالیسی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت ملازمین کے جائز مسائل کے حل میں دانستہ تاخیر کرکے اپنی بدنیتی واضح کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں میں ملازمین کو ڈی آر اے دیا جا چکا ہے لیکن بلوچستان حکومت ہٹ دھرمی اور تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبے کے ملازمین کو ان کے جائز حق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ شدید مہنگائی کے باعث تنخواہ دار ملازمین بالخصوص نچلے سکیل کے ملازمین شدید اذیت اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ کم تنخواہوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ان کا گزر بسر انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ ملازمین کے پرامن اور جمہوری احتجاج کو بزورِ طاقت دبانا کسی صورت دانشمندی نہیں بلکہ اس طرزِ عمل سے حالات مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے ملازمین کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ جمعیت علماء اسلام ملازمین کے جائز حقوق کے حصول کے لیے جاری احتجاج کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملازمین کے تمام جائز مطالبات بلا تاخیر تسلیم کیے جائیں۔

