کوئٹہ (رپورٹر) ڈھاڈر کے سینئر اور نڈر صحافی رئیس فرحان جمالی پر بااثر ٹھیکیدار کے مسلح افراد کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے خلاف شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جمالی ویلفیئر ایسوسی ایشن اور نوجوان جمالی اتحاد بلوچستان نے اس بزدلانہ کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیِ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے سچ کی آواز دبائی نہیں جا سکتی تنظیم کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں رئیس فرحان جمالی نے ہمیشہ ضلع کچھی کے عوامی مسائل کو بلا تعصب اجاگر کیا اور حق گوئی کا علم بلند رکھا۔ ان پر حملہ دراصل حق اور سچ کی آواز کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے لیکن ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے صحافیوں کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے جمالی ویلفیئر ایسوسی ایشن اور نوجوان جمالی اتحاد نے آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی پولیس نصیر آباد ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث نامزد ملزم برکت جتوئی اور اس کے دیگر مسلح ساتھیوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں سحتجاج کی وارننگ بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ملزمان کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں نہ لایا گیا تو تنظیم سخت احتجاجی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی انصاف کی فراہمی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

