اوتھل میں قبرستانوں کی شدید کمی، نئی زمین الاٹ کرنے کا مطالبہ

لسبیلہ(بیوروچیف)اوتھل شہر میں قبرستانوں کی شدید کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ شہر کے تقریباً تمام قبرستان مکمل طور پر بھر چکے ہیں جبکہ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں اوتھل کے تمام قبرستانوں میں تدفین کی گنجائش ختم ہو جائے گی، جس کے باعث شہریوں کو اپنے مرحومین کی تدفین میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔شہر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوامی، سماجی اور مذہبی حلقوں نے اس تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نواب جام کمال خان عالیانی اور سیکریٹری پارلیمانی امور میر زرین خان مگسی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اوتھل شہر میں قبرستان کے لیے فوری طور پر نئی زمین الاٹ کی جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تدفین مسلمانوں کا بنیادی مذہبی فریضہ ہے اور قبرستان کی عدم دستیابی نہ صرف عوام کے لیے اذیت کا باعث بن رہی ہے بلکہ مذہبی اقدار کے بھی منافی ہے۔ بعض شہریوں نے بتایا کہ جگہ نہ ہونے کے باعث پرانی قبروں میں دوبارہ تدفین یا دور دراز علاقوں میں مرحومین کو لے جانا پڑتا ہے، جو نہایت تکلیف دہ عمل ہے۔سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہر کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن اس کے برعکس بنیادی سہولیات، خصوصاً قبرستانوں کے لیے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں