کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے کہاہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سردعلاقوں میں سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر میں کمی نے عوام کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے، بار بار گیس بندہونے اور پریشر نہ ہونے سے آئے روز قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں سوئی سدرن گیس کمپنی گیس پریشر کی بہتری اور غیراعلانیہ گیس لوڈشیڈنگ کافوری خاتمہ کرے بصورت دیگر عوام کے ساتھ ملکر سخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں لالہ یوسف خلجی نے کہا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے سرد علاقوں میں حالیہ بارشوں،برف باری کے بعد سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس بھی غائب ہوگئی ہے میکانگی روڈ، بلوچی اسٹریٹ، ٹین ٹاؤن، کاسی روڈاورگردونواح میں گزشتہ 5روز سے گیس نہیں آرہی ہے جس کی وجہ سے خواتین کو کھانا بنانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے اورسردی کے باعث بوڑھے،بچے اور خواتین بیمار پڑ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گیس نہ ہونے اور پریشر میں کمی کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی گیس پریشر بڑھانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں بار بار گیس کی بندش کی وجہ سے آئے روز حادثات رونما ہورہے ہیں جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع اور درجنوں افرادزخمی ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کوئٹہ شہر میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم اور گیس پریشر کو بحال کرے بصورت دیگر بلوچستان امن جرگہ عوام کے ساتھ ملکر سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفتر کے گھیراؤ سمیت سخت احتجاج پر مجبور ہونگے جس کی تمام ترذمہ داری سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام پر ہوگی۔

