کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبد الواسع اور جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبد الرحمن رفیق نے سیٹلائٹ ٹاؤن ادارہ القرآن محمدی مسجد میں منعقدہ “علماء و فضلاء کنونشن” سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں شخصی قوانین کی مشق ہر دور میں ناکام رہی ہے، جبکہ ملک اور قوم لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء ہی ملک کی اسلامی اور تہذیبی شناخت کے خوبصورت اور پْرامن علمبردار ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء کا کردار تاریخِ پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے آج قوم کو دانستہ طور پر فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھا جا رہا ہے۔کنونشن میں مرکزی مجلسِ فقہی کے سربراہ مفتی محمد روزی خان، مرکزی ناظم ملک سکندر خان ایڈووکیٹ، صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ، صوبائی مجلسِ عاملہ کے اراکین مولانا خورشید احمد، حاجی عین اللہ شمس، مولانا منظور احمد مینگل، حاجی محمد نواز کاکڑ، حاجی دین محمد سیگی، حاجی بشیر احمد کاکڑ، سید حاجی عبد الواحد آغا سمیت ضلعی مجلسِ عاملہ کے اراکین اور بڑی تعداد میں علماء و فضلاء نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کا تقاضا ہے کہ ملک کی تقدیر کے فیصلے چند افراد بند کمروں میں بیٹھ کر نہ کریں بلکہ قوم کی امنگوں، ترجیحات اور اجتماعی شعور کو فیصلہ سازی کی بنیاد بنایا جائے۔ جب قوم کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو ریاست کمزور اور عوام مایوس ہو جاتے ہیں۔علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا کہ طاقت، جذباتیت اور وقتی مفادات نے ملک کو عالمی بالادست طاقتوں کا محتاج بلکہ غلام بنا دیا ہے۔ ہر آنے والا حکمران خود کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے قوم کی آزادی اور خودمختاری کو سودے بازی کی نذر کرتا رہا، جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کسی فرد، جماعت یا اقتدار کے دوام کے لیے نہیں بلکہ ملک کے بہتر، محفوظ اور خودمختار مستقبل کے لیے ہونی چاہئے۔ آئین کے ساتھ کھلواڑ دراصل قومی وحدت، جمہوریت اور عوامی اعتماد کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔رہنماؤں نے واضح کیا کہ علماء ہمیشہ حق، عدل اور قومی خودداری کی آواز بلند کرتے رہیں گے اور کسی صورت اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ قوم کے مقدر کا فیصلہ عوام کی مرضی کے بغیر کیا جائے۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے آئینی، جمہوری اور قومی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو۔

