بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی ذوالفقار بھٹو کے نظریات پر سختی سے پابند ہے،خیرمحمد ترین،رفیق سجاد

کوئٹہ(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماوں نے شہید ذوالفقارعلی بھٹو کو انکی 98ویں سالگرہ پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی اپنے بانی قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نظریات پر سختی سے پابند ہے، چیئرمین قائدِ عوام کے روٹی، کپڑا اور مکان کے فلسفہ کی روشنی میں عوامی حقوق کے تحفظ اور خوشحالی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔یہ بات کوئٹہ ڈویژن کے صدر سردارخیرمحمدترین،قلات ڈویژن کے صدر رفیق سجاد،رخشان ڈویژن کے صدر نعیم بلوچ،لورالائی ڈویژن کے صدر رحمت اللہ کاکڑ،نصیر آباد ڈویژن کے نائب صدر خالد دھرپالی، ضلع کوئٹہ کے صدر میر نصیب اللہ شاہوانی،کوئٹہ ڈویژن کے انفارمیشن سیکریٹری احسان اللہ افغان رخشان ڈویژن کے انفارمیشن سیکریٹری کامریڈ سید محمد نبی ضلع قلعہ عبداللہ کے جنرل سیکریٹری محمد ابراہیم کاکڑ، ضلع جعفر آباد کے جنرل سیکرٹری ربانی خان کھوسہ، ضلع قلعہ سیف اللہ عبدالستار، محمد اسلم بوہڑ (انفارمیشن سیکریٹری ضلع کچھی) سمیت کوئٹہ ڈویژن، کوئٹہ ڈسٹرکٹ اور کوئٹہ سٹی کے رہنماؤں سید ایوب آغا اکبر خان ترین ارباب ارشد کاسی سید اکبر شاہ داد محمد خوندائی اسپورٹس اینڈ کلچر بلوچستان کے صدر شہزادہ کاکڑ ڈاکٹر ونگ بلوچستان کے صدر ڈاکٹر عبید کاکڑ کوئٹہ ڈویژن کے نائب صدور ملک عیسیٰ ملازائی غلام جیلانی شاد میر بابل بنگلزائی عظیم ساتکزائی نجیب ناصر، ضلع تربت کے صدر حاجی قدیر احمد، ضلع واشک کے صدر احسان اللہ سمالان، ضلع نوشکی کے صدر میر عبدالرحمن جمالدینی، ضلع خاران کے صدر حمید اللہ ڈومکی، ضلع ہرنائی کے صدر یاسین ترین، ضلع لسبیلہ کے صدر حاجی انور رونجھو، ضلع قلات کے صدر ملک عصمت اللہ کھیازئی، ضلع موسیٰ خیل کے صدر خان ظاہر خان، ضلع دکی کے صدر ملک شاہ خان، ضلع پشین کے صدر شیر محمد ترین نے پاکستان پیپلز پارٹی کوئٹہ ڈویژن کے زیراہتمام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر”قائد کا خواب اور طبقات سے پاک معاشرے کا قیام“ پرکوئٹہ ڈویژن کے دفتر میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سردار خیر محمد ترین نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو برصغیر کے ان چند عظیم رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اقتدار کو اشرافیہ کی جاگیر بنانے کے بجائے عوام کی امانت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو نے مزدور، کسان، طالب علم، خواتین اور پسے ہوئے طبقات کو نہ صرف زبان دی بلکہ انہیں اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا شعور بھی دیا۔ سردار خیر محمد ترین نے کہا کہ آج پاکستان کو درپیش معاشی، سماجی اور سیاسی بحران اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر بھٹو کے نظریے اور فلسفے پر تسلسل سے عمل کیا جاتا تو ملک اس نہج تک نہ پہنچتا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کا خواب ایک ایسا پاکستان تھا جہاں طبقاتی تفریق، استحصال اور ناانصافی کا خاتمہ ہو، آئین کی بالادستی قائم ہو اور ریاست عام شہری کی فلاح و بہبود کی ذمہ دار ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت، وفاقیت، صوبائی خودمختاری اور عوامی حقوق کی سیاست کی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی مظلوم طبقات کی نظریں پیپلز پارٹی پر مرکوز ہیں۔ سردار خیر محمد ترین نے پارٹی کارکنان پر زور دیا کہ وہ تنظیمی سطح پر متحرک ہوں اور قائدِ عوام کے نظریے کو گھر گھر پہنچائیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے قلات ڈویژن کے صدر رفیق سجاد نے کہا کہ شہید بھٹو نے 1973ء کا متفقہ آئین دے کر عوام کو بنیادی انسانی، سیاسی اور معاشی حقوق فراہم کیے، جو آج بھی پاکستان کے وفاقی اور جمہوری ڈھانچے کی بنیاد ہے۔رخشان ڈویژن کے صدر نعیم بلوچ نے کہا کہ شہید بھٹو نے بلوچستان کو پہلی بار سیاسی شناخت، آئینی تحفظ اور وفاق میں باعزت مقام دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام آج بھی بھٹو کے فلسفے سے جذباتی اور نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں۔لورالائی ڈویژن کے صدر رحمت اللہ کاکڑ نے کہا کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس نے مزدوروں، کسانوں اور سرکاری ملازمین کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کیا اور ٹریڈ یونین کے حق کو تسلیم کیا۔نصیر آباد ڈویژن کے نائب صدر خالد دھرپالی نے کہا کہ موجودہ معاشی نظام نے امیر اور غریب کے درمیان خلیج کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، جس کے خلاف بھٹو کے طبقاتی انصاف کے نظریے کو ازسرِنو اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ کوئٹہ ڈویڑن کے جنرل سیکریٹری محمد گل شاہوانی ڑوب ڈویڑن کے جنرل سیکریٹری عمر موسیٰ زئی نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو کا نظریہ آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور نوجوانوں کو عملی سیاست میں آگے آنا ہوگا۔سیمینار سے کوئٹہ ڈویژن کے انفارمیشن سیکرٹری احسان اللہ افغان رخشان ڈویژن کے انفارمیشن سیکرٹری کامریڈ سید محمد نبی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید بھٹو کی سیاست سامراج مخالف، عوام دوست اور نظریاتی سیاست تھی، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کو ایک خوددار ریاست کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی سرمایہ دارانہ جبر اور طبقاتی استحصال کے خلاف جدوجہد کے لیے بھٹو کا فلسفہ سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں