اوتھل (این این آئی) گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن (جی ٹی اے) لسبیلہ کے صدر محمد اسلم رونجھو، جنرل سیکرٹری قاضی احسان الحق بلوچ اور دیگر عہدیداروں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں اوتھل پولیس کی جانب سے گرینڈ الائنس لسبیلہ کے ضلعی صدر عبدالواحد سومرو، نائب صدر محمد اکرم جاموٹ اور جنرل سیکرٹری مولا بخش لاسی کی گرفتاری اور تھانے میں اساتذہ کے ساتھ کیے گئے مبینہ ہتک آمیز اور غیر انسانی رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوتھل پولیس بالخصوص ایس ایچ او اوتھل یار محمد کمانڈو کا اساتذہ کے ساتھ رویہ نہایت غیر مناسب، توہین آمیز اور قابل افسوس رہا جو نہ صرف اساتذہ کے وقار کے منافی ہے بلکہ پولیس جیسے ذمہ دار ادارے کی پیشہ ورانہ اقدار پر بھی سوالیہ نشان ہے، جی ٹی اے رہنماؤں نے کہا کہ عبدالواحد سومرو، محمد اکرم جاموٹ اور مولا بخش لاسی کے ساتھ ساتھ تھانے میں موجود دیگر اساتذہ کو جس انداز میں ہراساں کیا گیا وہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اساتذہ معاشرے کے معمار اور قابل احترام طبقہ ہیں جن کے ساتھ اس طرح کا سلوک پورے تعلیمی طبقے کی تذلیل کے مترادف ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او اوتھل نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ طرزِ عمل اختیار کرکے اپنی نااہلی اور پیشہ ورانہ کمزوری کو خود ہی عیاں کر دیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کی گرفتاری سراسر غیر ضروری اور بلاجواز تھی جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اوتھل پولیس اپنی ناکامیوں اور بدانتظامی کو چھپانے کے لیے جائز مطالبات کیلیے جہدوجہد کرنے والے اساتذہ کو نشانہ بنا رہی ہے جی ٹی اے رہنماؤں نے واضح کیا کہ اساتذہ اپنے آئینی و قانونی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور کسی بھی قسم کے دباؤ، دھمکی یا ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے، گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن لسبیلہ نے پولیس کے اعلیٰ حکام، آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سے مطالبہ کیا کہ اوتھل واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی اور غیر مناسب رویے میں ملوث ایس ایچ او اوتھل کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے اور گرینڈ الائنس کے گرفتار رہنماؤں کو فوری اور باعزت رہا کیا جائے، آخر میں جی ٹی اے رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر اساتذہ کے ساتھ روا رکھا گیا یہ رویہ بند نہ ہوا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو اساتذہ اور گرینڈ الائنس سے منسلک دیگر تنظیمیں اپنے لائحہ عمل کے تحت احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گی جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی پولیس انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

