ڈیپ سی فشنگ بلوچستان کی معیشت بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، سینیٹر عبدالقادر

کوئٹہ (این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے طویل اور وسیع ساحلی علاقے میں گہرے سمندر کی ماہی گیری (ڈیپ سی فشنگ) صوبے کی معیشت کو نئی سمت دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے پاکستان کی مجموعی ساحلی پٹی 1046 کلومیٹر طویل ہے جس میں سے 750 کلومیٹر ساحل صرف بلوچستان میں واقع ہے یہ ساحلی پٹی قدرتی وسائل، نایاب مچھلیوں اور قیمتی سمندری حیات سے مالا مال ہے، تاہم مناسب منصوبہ بندی اور سہولیات کی کمی کے باعث اس سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا اگر حکومت بلوچستان کے ساحلی اضلاع گوادر، پسنی، اورماڑہ اور جیوانی میں جدید ڈیپ سی فشنگ کو فروغ دے تو بلوچستان کے لاکھوں افراد کو براہِ راست اور بالواسطہ روزگار میسر آ سکتا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ صوبے کی 15 فیصد آبادی ماہی گیری، فِش پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج، نقل و حمل اور برآمدات سے مستفید ہو سکتی ہے حکومت کو چاہیے کہ ماہی گیروں کو جدید کشتیاں، نیویگیشن سسٹم، سیفٹی آلات، کولڈ چین سہولیات، آئس پلانٹس، فِش ہاربرز، آسان قرضے اور تربیتی پروگرام فراہم کرے اس کے ساتھ ساتھ سمندری حدود کے تحفظ، غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور مقامی ماہی گیروں کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے اگر بلوچستان میں ڈیپ سی فشنگ کو منظم انداز میں ترقی دی جائے تو پاکستان سالانہ 2 ارب ڈالر سے زاید زرمبادلہ کما سکتا ہے یہ نہ صرف قومی معیشت کے لیے اہم ہوگا بلکہ بلوچستان میں غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع اور سماجی استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گاحکومتِ پاکستان اور صوبائی حکام کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ بلوچستان کے ساحلی وسائل کو بروئے کار لا کر صوبے کے عوام کی معاشی حالت بہتر بنائیں اور ملک کی بحری معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں