جو کام قرآن و سنت کے مطابق ہو وہی درست ہے، مولانا عمران عطاری

لسبیلہ(بیوروچیف حفیظ دانش) دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانا محمدعمران عطاری نے کہا ہے کہ ہمارے تمام معاملات کا معیار قرآن و سنت کے احکامات ہونے چاہئیں، جو کام قرآن و سنت کے مطابق ہو وہی درست ہے، یاد رکھیں کہ خود سنتوں پر عمل کرنا اور دوسروں کو سنتوں پر عمل کی ترغیب دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے، لہذا مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنا دینی انداز نہ چھوڑیں کیونکہ اگر مسلمان ہی اپنا انداز بدل لیں تو پھر دین کی دعوت دینے والا کون ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی میں منعقدہ ایک سیشن سے کیا ، جس میں اراکین شوریٰ حاجی فضیل رضا عطاری، حاجی محمد امین عطاری ،صوبائی مشاورتوں کے نگران اور کراچی سمیت اندرون سندھ اور بلوچستان سے یوسی سطح کے نگران و ذمہ دار موجود تھے۔ مولانا محمد عمران عطاری نے کہا کہ مصیبتوں کو پوشیدہ رکھنا اور ان پر صبر کرنا بڑی نیکی ہے، نماز کی تعظیم کا تقاضا ہے کہ اقامت سے قبل ہی مسجد میں نماز کیلئے حاضر ہو جائیں، مبلغ کے کردار میں موجود اچھے اوصاف لوگوں پر مثبت اثر ڈالتے ہیں، اس لئے اخلاق حسنہ کو اپنانا نہایت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نصیحت اور ملامت میں واضح فرق ہے، ملامت میں صرف تنقید کا پہلو ہوتا ہے جبکہ نصیحت نرمی، حکمت اور موقع و محل کی مناسبت سے کی جاتی ہے اور اس کا مقصد اصلاح ہوتا ہے، جس شخص کو سمجھایا جا رہا ہو، اس کے دل میں یہ بات بٹھانا ضروری ہے کہ سمجھانے والا اس کا خیر خواہ ہے، جب کسی کو خیر خواہی کا یقین ہو جائے تو وہ بات کو توجہ سے سنتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ نگران شوریٰ نے کہا کہ عام طور پر انسان کو نصیحت پسند نہیں آتی اور کسی کا ٹوکنا ناگوار گزرتا ہے، تاہم طبیعت میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت ہونا ضروری ہے تاکہ اصلاح ممکن ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں