بختیارآباد(لیاقت علی ڈومکی)بختیارآباد اور گردونواح میں گیس پریشر میں کمی, شہری سخت سردی سے ٹھٹھر کر رہ گئے, گیس پریشر میں کمی خواتین کو امور خانہ داری میں شدید مشکلات کا سامنا, طلبہ و طالبات بغیر ناشتہ سکول جانے پر مجبور, شہریوں کا حکام بالا سے نوٹس لینے کی اپیل۔ تفصیلات کے مطابق سردیاں شروع ہوٹے ہی بختیارآباد, لہڑی اور گردونواح میں گیس پریشر میں کمی کے باعث شہری شدید پریشان ہیں۔ گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے ایک جانب شہری سردی سے ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں تو دوسری جانب خواتین کو امورخانہ داری سمیت روز مرہ کے کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور طلباء طالبات بغیر ناشتہ کیے اسکول جانے پر مجور ہیں جبکہ گیس صارفین شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ شہریوں کے مطابق بھاری بھرکم بل ادا کرنے کے باوجود انہیں مطلوبہ گیس فراہم نہیں کی جا رہی گیس کی انتہائی کم پریشر کے باعث چولہے جلانا بھی مشکل ہو گیا ہے خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث خواتین بزرگوں اور بچوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بختیارآباد میں گیس نہ ہونے کے برابر ہے سرد موسم میں گیس جیسی بنیادی سہولت کی عدم دستیابی نا انصافی کے مترادف ہے اس جدید دور میں بھی بختیارآباد کے شہری لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں جبکہ لکڑیاں بھی 800 سے 1000 روپے فی من فروخت کی جا رہی ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم پورا دن محنت مزدوری کر کے 700 سے 800 روپے دیہاڑی کماتے ہیں ان پیسوں سے ہم لکڑیاں خریدیں یا اشیاء خورد و نوش خریدیں۔ بختیارآباد کے شہریوں نے ایم پی اے سبی سردار کوہیار خان ڈومکی , ڈپٹی کمشنر سبی اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے زمہ داروں سے نوٹس لے کر بختیارآباد شہر میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے، بختیارآباد اور لہڑی میں گیس پریشر کو بڑھانے اور شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ بختیارآباد کے شہری سکھ کا سانس لے سکیں ۔

