نصیرآباد،مختلف علاقوں میں کڑاکے کی سردی، معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر

چھتر (این این آئی)ضلع نصیرآباد کے مختلف علاقوں میں کڑاکے کی سردی، معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر تفصیلات کے مطابق ضلع نصیرآباد کے علاقوں میرحسن، چھتر، منجھو، شوری اور حمید آباد میں جنوری کے مہینے میں کڑاکے کی سردی نے شدت اختیار کر لی ہے۔ شدید سرد ہواؤں اور درجہ حرارت میں غیر معمولی کمی کے باعث سردی کی لہر نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے عام زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے مقامی ذرائع کے مطابق صبح اور رات کے اوقات میں سردی ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جاتی ہے، جبکہ سرد ہوائیں جسم کو چیرتی محسوس ہوتی ہیں۔ کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدور، کسان اور دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ سردی کے باعث دیہی علاقوں میں لوگ گھروں تک محدود ہو گئے ہیں اور بازاروں میں معمول کے مقابلے میں رش نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے شدید سردی کے باعث بچوں، بزرگوں اور خواتین میں نزلہ، زکام، بخار اور دیگر موسمی امراض میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث عوام کو علاج معالجے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متعدد علاقوں میں گیس اور بجلی کی غیر یقینی فراہمی نے شہریوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث لوگ لکڑی اور دیگر متبادل ذرائع سے خود کو گرم رکھنے پر مجبور ہیں۔کسانوں کا کہنا ہے کہ سردی کی شدت کے باعث فصلوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ نہری پانی کی کمی اور ٹھنڈے موسم نے زرعی سرگرمیوں کو سست کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ سردی کی اس شدید لہر کے دوران عوام کو ریلیف فراہم کرے، بالخصوص غریب اور نادار افراد کے لیے گرم کپڑوں، کمبل اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک سردی کی یہ لہر برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ صبح کے اوقات میں دھند پڑنے سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور بچوں و بزرگوں کو خاص طور پر گرم رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں