بلوچستان کو اسکا حصہ دیا جائے ‎

تربت(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سونے، چاندی اور دیگر قیمتی دھاتوں کو یتیموں کا مال سمجھ کر بے دردی سے نکالا جا رہا ہے، جبکہ صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماہرین کے مطابق بلوچستان میں موجود معدنی وسائل کی مجموعی مالیت کا تخمینہ دو ٹریلین ڈالر سے زائد ہے، اور پاکستان کی بڑی معدنی پیداوار کا نمایاں حصہ بلوچستان سے حاصل کیا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود صوبے کو معدنی آمدن میں انتہائی محدود حصہ دیا جاتا ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے سالانہ اربوں روپے کی معدنی دولت نکالی جاتی ہے، لیکن صوبے کے بیشتر علاقوں میں آج بھی پینے کا صاف پانی، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات ناپید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کا ایک بڑا حصہ بھی بلوچستان کی ترقی پر خرچ کیا جائے تو صوبے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل کی استخراج میں مکمل شفافیت لائی جائے، صوبے کو اس کے وسائل کا منصفانہ حق دیا جائے اور مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں