کوئٹہ(این این آئی) وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ اینڈومنٹ فنڈ کا قیام محض ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ صوبے کی خواتین کی معاشی و سماجی حیثیت کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے کی جانب ایک انقلابی اور تاریخی پیش رفت ہے۔اپنے جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ معاشی خودمختاری ہی خواتین کے سماجی وقار اور تحفظ کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ اینڈومنٹ فنڈ کے ذریعے صوبے کی ہنرمند، تعلیم یافتہ مگر بے روزگار اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس پالیسی کا مرکزی محور خواتین کو روایتی معاشی انحصار سے نکال کر انہیں ایک کامیاب انٹرپرینیور اور کاروباری منتظم کے طور پر سامنے لانا ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں بلکہ صوبے کی معیشت میں بھی اپنا فعال حصہ ڈال سکیں۔مشیر ترقی نسواں نے کہا کہ فنڈ کی تقسیم کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضابطہ اخلاق مرتب کیا گیا ہے۔ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح دور دراز دیہی علاقوں کی وہ خواتین ہیں جو وسائل کی شدید کمی کے باعث اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر پاتیں، جبکہ بیوہ، نادار اور معذور خواتین کی بحالی کے لیے اس فنڈ میں خصوصی گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویمن اکنامک ایمپاورمنٹ اینڈومنٹ فنڈ سے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے آغاز، روایتی دستکاری کے فروغ اور جدید دور کے تقاضوں کے ہم آہنگ ٹیکنیکل ٹریننگ کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ بلوچستان کی بیٹیوں کو آگے بڑھنے کے لیے وسائل کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں صوبائی حکومت خواتین کے راستے میں حائل تمام سماجی و معاشی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

