کوئٹہ(این این آئی)جمہوری وطن پارٹی کے سابق مرکزی ترجمان میر شمس کرد نے گرینڈ الائنس کے قائدین کے گھروں پر چھاپوں، ملازمین کی گرفتاریوں، درجنوں افسران کی معطلی اور سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی انتقامی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی حکومت نے اپنی ہی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات سے انکار کر کے اپنی غیرسنجیدگی اور عوام دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پرامن سیاسی جدوجہد کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کسی بھی جمہوری نظام میں قابلِ قبول نہیں۔ حکمرانوں کا یہ طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اختلافی آوازوں کو خاموش کرانے کی فکر لاحق ہے۔میر شمس کرد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہوتی تو وہ مکالمے، مشاورت اور اپنی ہی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرتی، مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں سیاسی انتقام کو پالیسی بنا لیا گیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جبر، دھونس اور گرفتاریوں سے نہ تو عوامی مطالبات دبائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی حالات میں بہتری آ سکتی ہے۔ ایسے اقدامات سے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے مزید بڑھیں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔آخر میں میر شمس کرد نے مطالبہ کیا کہ گرینڈ الائنس کے خلاف جاری تمام انتقامی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں، گرفتار ملازمین کو رہا کرکے مطالبا ت تسلیم کیے جائیں۔

