کوئٹہ (این این آئی) جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کی مجلسِ عاملہ کا اہم ہنگامی اجلاس سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلعی سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، حاجی رحمت اللہ کاکڑ، حافظ مسعود احمد، مولوی سعید احمد، سیکرٹری مالیات حاجی صالح محمد، حاجی قاسم خان خلجی، حاجی ولی محمد بڑیچ، حافظ دوست محمد مدنی، حاجی محمد شاہ لالا، عبدالصمد حقیار، مولانا محمد شعیب جدون، مفتی محمد ابوبکر، میر سرفراز شاہوانی ایڈووکیٹ، سالار مولوی علی جان، مولوی سعداللہ آغا، کوآرڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا عبدالباری شہزاد، مولوی جمال الدین حقانی، مفتی رشید احمد حقانی اور حاجی عطا محمد شمشوزئی سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں ایف سی اور کسٹم اہلکاروں کی جانب سے گوداموں پر ناروا چھاپوں، تاجروں کے معاشی قتلِ عام اور استحصال کے خلاف، گرینڈ الائنس کے مطالبات کے حق میں شدید احتجاج کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام ضلعی امیر مولانا عبد الرحمن رفیق کی زیرِ صدارت ضلعی سیکرٹریٹ، سپنرز پلازہ اینگل روڈ، دوپہر 2 بجے تاجر برادری اور تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل آج بمورخہ 12 جنوری بروز پیر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوگی۔جس کے اعلامیہ شام 5 بجے پرہجوم پریس کانفرنس کے ذریعے کیا جائے گا۔اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ ایک گہری سازش کے تحت عوام اور خطے میں معاشی بدحالی پیدا کرکے مذموم مقاصد کے لیے غیر آئینی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس کے حوالے سے کوئی بھی شہری خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔اجلاس میں حکومت کی غلط، عوام دشمن اور غیر منصفانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں بلوچستان بالخصوص کوئٹہ کے عوام پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور لوگوں کو روزگار اور کاروبار سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے سے کوئٹہ میں بغیر کسی پیشگی اطلاع، قانونی جواز اور عدالتی احکامات کے تاجر برادری کی دکانوں اور گوداموں پر چھاپے مارنا کھلی آئینی خلاف ورزی اور قابلِ مذمت عمل ہے، جو ریاستی اداروں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص کسٹم اہلکاروں اور ایف سی کی جانب سے گوداموں پر چھاپوں اور مال کی ضبطی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومتِ بلوچستان، خصوصاً وزیرِ اعلیٰ اور گورنر بلوچستان فوری نوٹس لیتے ہوئے ان ناروا، غیر آئینی اور ظالمانہ کارروائیوں کو بند کروائیں اور تاجر برادری کے کاروبار، املاک اور عزتِ نفس کا بلا تاخیر تحفظ یقینی بنائیں۔ ریاست کا کام عوام کا تحفظ ہے، نہ کہ انہیں ہراساں کرنا اور ان کے گھروں کے چولہے بجھانا مقصود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اور اسے معاشی تباہی، خوف اور بدامنی کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لے کر جلد آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں مشاورت کے ذریعے ایک متفقہ اور مؤثر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اگر یہ ظالمانہ اقدامات بند نہ کیے گئے تو عوام اور تاجر برادری اپنے آئینی و جمہوری حقِ احتجاج کو استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ وقت پر عائد ہوگی۔ جمعیت علماء اسلام پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، تاہم اپنے حقوق، روزگار اور شہر کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

