کراچی (رپورٹر ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی برسی کی مناسبت سے ”منٹو اور آج کی دنیا“ کے عنوان سے نشست کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیاگیا جس میں انسانی حقوق کے رہنما اور اردو، پنجابی اور انگریزی زبانوں کے شاعر حارث خلیق نے سیر حاصل گفتگو کی جبکہ نظامت کے فرائض معروف اینکر و صحافی ابصا کومل انجام دیے۔ نشست میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، صحافی غازی صلاح الدین، نور الہدیٰ شاہ، ایوب شیخ، ڈاکٹر قیصر سجاد، صادقہ صلاح الدین سمیت ادبی و سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، نشست میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے صدر آرٹس کونسل محمد احمد نے حارث خلیق اور ابصا کومل کو گلدستہ پیش کیا جبکہ نشست میں منٹو کے 1951سے 1954 کے درمیان لکھے گئے خطوط سے گفتگو کا آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر شاعر حارث خلیق نے کہاکہ منٹو کے کسی بھی کام میں کوئی حتمی تسلسل نہیں تھا وہ اس سلسلے میں دوسرے نامور ادیبوں سے مختلف تھے، منٹو کے دور میں واضح طور پر ایک تقسیم تھی جس میں دائیں اور بائیں بازو کے ادیب ہوتے تھے ان کو تنظیمی طور پر ترقی پسند نہیں کہا جاتا تھا جو ترقی پسند ادیب تھے وہ اس کی مذمت کرتے تھے۔انہوں نے کہاکہ منٹو پاکستان اور ہندوستان کو ایک برابر دیکھتے تھے، انہوں نے پسماندہ قوم کی پسماندہ زبان لکھی، 1950اور 1960 کی دہائی میں جو عالمی رجحانات تھے وہی آج بھی مختلف شکلوں میں موجود ہیں، ٹیکنالوجی میں تبدیلی آئی ہے مگر بنیادی مفادات وہی ہیں، مسکراہٹ ہو یا کمزوری یہ سب انسانی صفات ہیں، تقدس کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے، انہوں نے بتایا کہ منٹو کی کہانی ہے، انہیں یہ معلوم تھا 1947ءمیں تقسیم کا عمل ختم نہیں شروع ہوا ہے، بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہی اس کے اصل مصنف ہیں، ہمارے ہاں سردار پٹیل بھی تھے اور منٹو بھی۔ یہ درست نہیں کہ پورے ویسٹ کو ایک ہی مونولاگ یا یکساں سوچ کے طور پر دیکھا جائے، ویسٹ میں بھی یونٹی کے ساتھ ساتھ اختلافی آوازیں موجود رہی ہیں، پڑوسی ملک میں بھی کئی اہم شخصیات سامنے آتی رہی ہیں، لاہور اور خطے میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو غالب بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں، بڑی تعداد میں رائٹرز اور آرٹسٹس متبادل نقطہ نظر پیش کرتے ہیں، آرٹ کی کمیونٹی کو ایک نظریے سے نہیں دیکھنا چاہیے، جب ہم ”ویسٹ“ کہتے ہیں تو اس سے مراد عام عوام نہیں ہوتی، ویسٹ سے مراد وہ طاقتور طبقہ ہے جس کے پاس غلبہ، اختیار اور منڈی کی معیشت کا کنٹرول ہے، اصل گفتگو ان طاقتوں کے بارے میں ہے جو عالمی منڈیوں پر تسلط رکھتی ہے، محنت کش، ادیب اور صحافی کا تعلق ٹوٹ چکا ہے، ان کو عالمی سطح پر جوڑنے کی ضرورت ہے، ہر دور میں بڑے لکھنے والے آتے ہیں لیکن زبان تبدیل ہو جاتی ہے، دنیا میں لوگ لکھ رہے ہیں، ابھی بھی لکھنے والوں کو قدغن لگی ہوئی ہے، ریاست تو اپنا کام کرتی ہے مگر معاشرہ ریاست سے دو ہاتھ آگے ہے، حب الوطنی کا معاملہ ہر انسان کے لیے بالکل الگ ہے، منٹو کہتے تھے کہ ”نہ میں ملک ہو، نہ حکومت“ اور نہ خزانہ میں بس سچ بولنے والا ہوں“۔ لوگوں کو بہت سی چیزوں کا علم نہیں ہے، آج کے دور میں ایسا کوئی ادیب نہیں جو اپنے عہد کو اس طرح قلم بند کرے جس طرح منٹو نے کیا، منٹو ہندو اور مسلمان نہیں بلکہ انسان کو دیکھتے تھے۔ ابصا کومل نے کہاکہ منٹو کا ایک جملہ ”میں غریب ہوں کیونکہ میرا ملک غریب ہے“، ہم چاہے کتنی گاڑیاں لے لیں ، سوسائٹیاں بنا لیں لیکن بڑھتی ہوئی آبادی اور روز گار کے مواقع اس جملے پر آج بھی پورے اترتے ہیں، ہم یہ کہتے ہیں کہ آج کے تنگ نظر معاشرے کی عکاسی کے لیے منٹو جیسا ادیب سامنے آنا چاہیے ۔

