شہید ولید جان

وہ کم عمر سا اک خواب تھا،
جو آنکھوں میں روشن چراغ لیے
زندگی کی نرم دھوپ میں
مسکراہٹوں کے گیت لیے چلتا تھا۔
نہ عمر نے وفا کی، نہ وقت رُکا،
اک کالی شام نے سب چھین لیا
ہنسی، امید، کل کا وعدہ
خون میں لتھڑا خواب بنا دیا۔
وہ ماں کی دعا، باپ کی آنکھ
بہن کے آنچل کا مان تھا
اک پل میں سب ویران ہوا
وہ سب کا مان، ولید جان تھا۔
آج بھی فضا میں اس کی ہنسی
ہوا میں بکھری محسوس ہوتی ہے
مگر ہاتھ بڑھاؤ تو یاد آتی ہے
کہ شہادت خاموش ہوتی ہے۔
نہ وہ لوٹا، نہ لوٹیں گے خواب
بس عکس رہ گئے آنکھوں میں
اک نام، اک درد، اک صدا
دل کے سنسان گوشوں میں۔
اے شہیدِ کم عمر، سو جا سکون سے
تیرا قرض ہم پہ باقی ہے
تیرا خون ہم سے پوچھتا ہے
کیا انسانیت اب بھی زندہ ہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں