کوئٹہ(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی دفتر میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر محمدشہی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، چیئرمین محراب بلوچ، سعد بلوچ، مختار بلوچ، سائرہ بتول، نورینہ بلوچ، عارف کرد، عارف دہوار، ٹکری صدام لانگو، منظور راہی، عنایت بزدار، سکینہ بتول، مقدس، فرزانہ، سونیا خرم سمیت دیگر پارٹی اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں عورت فاؤنڈیشن کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر علاؤالدین خلجی اور صوبائی کوآرڈینیٹر یاسمین مغل نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران علاؤالدین خلجی نے نیشنل پارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عورت فاؤنڈیشن گزشتہ چار دہائیوں سے پاکستان میں جمہوری طرزِ حکمرانی، خواتین کی سیاسی شرکت اور جامع پالیسی اصلاحات کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نشست دراصل نیشنل پارٹی کے عہدیداران اور قیادت کو عورت فاؤنڈیشن کے ان حالیہ اقدامات سے آگاہ کرنے کے لیے منعقد کی گئی جو سیاسی جماعتوں میں صنفی مساوات، سماجی شمولیت اور خواتین کی فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت کو مضبوط بنانے کے لیے جاری ہیں۔ یہ اقدامات UNDP کے تعاون سے جاری PLEDGE پروجیکٹ کے تحت نافذ کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عورت فاؤنڈیشن نیشنل پارٹی کے ساتھ مشترکہ ترجیحات، تکنیکی تعاون اور صنفی بنیادوں پر اصلاحاتی اقدامات کے حوالے سے باہمی اشتراک بڑھانے میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کے ساتھ مشاورت جمہوری نظام کو مضبوط بنانے اور فیصلہ سازی میں مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی بلوچستان کلثوم نیاز بلوچ نے عورت فاؤنڈیشن کے جاری منصوبوں اور کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عورت فاؤنڈیشن نے ہمیشہ خواتین کو سیاسی و معاشی آگاہی فراہم کی ہے اور خواتین کی سیاسی نمائندگی کے فروغ کے لیے قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
آخر میں میر کبیر محمدشہی نے عورت فاؤنڈیشن کے پروگرام کی تعریف کی اور کہا کہ نیشنل پارٹی ایک روشن خیال اور ترقی پسند جمہوری سیاسی جماعت ہے جو شمولی سماج اور سماجی انصاف پر مبنی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ صنفی امتیاز کا خاتمہ اور صنفی برابری کا حصول پارٹی پروگرام کا حصہ ہے اور اسی بنیاد پر نیشنل پارٹی خواتین کی تعلیم، صحت، مالی خودمختاری اور سماجی و سیاسی شمولیت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے تاکہ خواتین محفوظ اور بااختیار ہوں اور معاشرتی ترقی میں برابر کردار ادا کریں۔ سیاسی جماعتوں میں خواتین کی فیصلہ سازی میں مؤثر شمولیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے فروغ کے لیے کوششیں اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے عورت فاؤنڈیشن کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی مشاورت کرکے اپنے اراکین کی فہرست فراہم کرے گی تاکہ پروگرام کے تحت سیاسی آگاہی اور صنفی شمولیت کو مزید وسعت دی جا سکے۔
*اجلاس کا اختتام باہمی شکریہ اور مستقبل میں قریبی تعاون کے عزم کے ساتھ ہوا۔*

