نظم
مچھ جیل کی سلاخوں سے اُٹھتی صدا
مچھ جیل کی دیواروں نے
ایک دن تاریخ لکھی تھی
جب تختۂ دار سے پہلے
ایک نوجوان نے کہا تھا
“میں جرم نہیں، خواب لٹکا رہا ہوں”
وہ حمید بلوچ تھا
جس کے ہاتھ میں ہتھکڑی نہیں
عہد تھا
جس کی آنکھوں میں خوف نہیں
ظفار کی سرخ پہاڑیاں تھیں
مسقط کی ہوائیں
اور گوادر سے کراچی تک
بغاوت کا گیت
کوڑے برسے
مگر چیخ نہ نکلی
جسم ٹوٹے
مگر نظریہ سلامت رہا
سپاہی تھک گئے
مگر BSO کے نعرے نہ تھکے
یہ وہ وقت تھا
جب کتاب جرم تھی
سوال غداری
اور سوچ کی سزا
موت
پھر بھی
یونیورسٹیوں سے
جیلوں تک
اور جیلوں سے
تختۂ دار تک
ایک ہی آواز گونجتی رہی:
“ہم محکوم نہیں
ہم تاریخ ہیں!”
حمید بلوچ مرا نہیں
وہ ہر اس طالبعلم میں زندہ ہے
جو جبر کے سامنے
انکار لکھتا ہے
ہر اس ماں کی آنکھ میں
جو بیٹے کی لاش نہیں
انقلاب کا خواب اٹھاتی ہے
اے شہیدو!
تمہارے خون سے
یہ سرزمین لال ہے
اور لال رنگ
کبھی ماند نہیں پڑتا
بلوچستان گواہ ہے
کراچی گواہ ہے
کہ کوڑے جسم تو توڑ سکتے ہیں
مگر
تحریکیں نہیں

