غیرت کے نام پر قتل غیر انسانی اور معاشرتی اقدار کی توہین ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

اسلام آباد( رپورٹر) سینیٹ آف پاکستان نے غیرت کے نام پر قتل جیسے سفاکانہ جرائم کے خاتمے کے لیے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے انسدادِ قتل برائے غیرت بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس قانون کے تحت غیرت کے نام پر قتل اب ناقابلِ معافی جرم ہوگا اور ایسے مقدمات ریاست خود لڑے گی، چاہے متاثرہ خاندان صلح یا معافی کیوں نہ دے دے۔یہ بل سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ایوان میں پیش کیا جسے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں منظور کیا گیا۔ قانون میں پاکستان پینل کوڈ اور فوجداری قوانین میں ضروری ترامیم شامل کی گئی ہیں تاکہ اس جرم کے لیے کسی قسم کے اخلاقی، جذباتی یا سماجی جواز کو تسلیم نہ کیا جائے۔نئے قانون کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کرنے والے مجرم کو عمر قید یا سزائے موت دی جا سکے گی، جبکہ عدالت کو ایسے مقدمات میں ضمانت دینے سے انکار کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ قاتل کو سزا میں رعایت دینے کی گنجائش بھی ختم کر دی گئی ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس موقع پر کہا کہ یہ قانون خواتین، بچیوں اور کمزور طبقات کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیرت کے نام پر قتل نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ یہ معاشرتی اقدار کی توہین بھی ہے، اور ریاست ایسے جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے گی۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ ترمیم پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ، انصاف کی بالادستی اور خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔سینیٹ میں بل پیش ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ نے بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ کمیٹی رپورٹ آنے کے بعد بل کو دوبارہ ایوان میں پیش کیا گیا، جہاں اسے کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ یہ قانون معاشرے میں خواتین اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی جیت ہے اور پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف موثر آواز ہے جسے کسی صورت دبایا نہیں جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں