کوئٹہ(این این آئی) پشین بچاؤ تحریک کے چیئرمین ملک لطف اللہ ترین، صدر سید حاجی عبدالبصیر آغا، وزیر ماما، حاجی نعمت آغا، ابرہیم شاہ آغا، حکیم اللہ اوردیگر نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے پشین ڈویژ ن کے قیام کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ پشین ڈویژن کے ہیڈکوارٹر پر ازسر نو غور کرکے اسکو سرانان، یارو کے نزدیک رکھا جائے کیونکہ سرانان اور یارو تمام اضلاع کا مرکز ہے،بلوچستان ہائیکورٹ میں چلنے والے کیس کے فیصلے تک کم آبادی پر ضلع بنانے کے فیصلے کی ہرسطح پرمخالف کریں گے اور پشین کو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کرنے دیں گے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع پشین آبادی کے لحاظ سے بلوچستان کا تیسرا بڑا ضلع ہے اور اس کی آبادی حکومت پاکستان کی جانب سے 2023ء کے مردم شماری میں تقریباً 500000 کی کٹوتی کے باوجود 836000 ہے ضلع پشین کی آبادی زیادہ ہونے اور وسائل کی کمی دیگر انتظامی امور میں مشکلات کی وجہ سے یہاں نئے اضلاع کے قیام کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جارہی تھی سال 2018 ء کے الیکشن کے بعد بننے والی مخلوط صوبائی حکومت نے پشین ڈویژن اور پشین میں نئے ضلع کے قیام پر کام شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے ضلع برشور کاریزات بنانے کے لیے تمام قانونی اور مشاورتی مراحل مکمل کرنے کے بعد کابینہ سے ضلع برشور کاریزات کی منظور ی لی نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہیڈ کوارٹر پر برشور اور کاریزات کے لوگوں کے مابین اختلاف سامنے آئے جس کی وجہ سے نئے ضلع برشور کاریزات کے نوٹیفکیشن کے جاری ہونے میں کئی مہینے کی دیر ہوئی اس دوران حکومت بلوچستان نے لوگوں کے احتجاج پر ایک کمیٹی کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی سربراہی میں بنائی کمیٹی نے برشور کاریزات کے قبائلی اور سیاسی عمادئدین سے ملاقاتیں کی اور کمیٹی نے اپنی رپورٹ حکومت بلوچستان کو جمع کرادی اس کے بعد حکومت نے بلوچستان نے مورخہ 21 نومبر 2022 کو نئے ضلع برشور کاریزات کا ہیڈ کوارٹر خانوزئی کے ساتھ نوٹیفکیشن جاری کیا جس کا پشین کے تمام لوگوں نے خیر مقدم کیا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی برشور کے لوگوں نے لانگ مارچ کرکے بلوچستان اسمبلی کے سامنے دہرنا دیا جس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعلیٰ نے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر ایک کاغذ پر مشتمل نیا نوٹیفکیشن 22 نومبر 2022 جاری کروایا جس میں ضلع کاریزات کو ہیڈ کوارٹر خانوزئی کے ساتھ قائم کیا جس کی ٹوٹل آبادی 152000 ہے اور برشور توبہ کاکڑی کو ضلع پشین میں رکھا گیاجس کی آبادی 143000 ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ضلع پشین کی آبادی واپس تقریباً 700000 سات لاکھ ہوئی22 نومبر 2022 کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پر تحصیل پشین تحصیل حرمزئی اور تحصیل سرانان نے محسوس کیا کہ ضلع پشین ضلع کاریزات کے قیام کی صورت میں 152000 آبادی نکلنے سے پشین کے اکثریتی آبادی کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا اس لیے ان تین تحصیلوں کے عوام نے پشین بچاو تحریک 21 نومبر 2022 کے ضلع برشور کاریزات جس کی آبادی 295000 بنتی ہے کہ نوٹیفکیشن کے بحالی کے لیے احتجاج کا آغاز کیا اور سخت سردی میں کئی دنوں تک صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجاً دہرنا دیا جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے 21 اور 22 نومبر 2022 کے دونوں نوٹیفکیشنز واپس لے کر ضلع پشین کو واپس اپنے پرانے حیثیت میں بحال کیا۔انہوں نے کہا کہ زیراعلیٰ نے پشین بچاو تحریک کے وفد سے وعدہ کیا کہ فریقین بیٹھ کر متفقہ فارمولا لائیں میں اس کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کرونگا پشین بچاو تحریک نے متفقہ فارمولا بنانے کے لیے برشور اور کاریزات کے کمیٹیوں کے مشران سے بار بار رابطہ کیا مگر انہوں نے مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کے بجائے ہائی کورٹ میں کیس کئے اس کے بعد ہائی کورٹ میں پشین بچاو تحریک نے بھی 21 نومبر 2022 کے قانونی اور صوبائی کابینہ سے منظور شدہ نوٹیفکیشن کی بحالی کے لیے ہائی کورٹ میں کیس داخل کیا۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں پچھلے تین سالوں سے کیس چل رہا ہے مگر عدالت عالیہ بلوچستان نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہماری بلوچستان ہائی کورٹ سے درخواست ہے کہ وہ اس کیس کا جلد از جلد فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایک مرتبہ پھر 152000 آبادی پرمشتمل ضلع کاریزات یا 143000 آبادی پر مشتمل ضلع برشور بنانے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے پشین بچاو تحریک اس بابت اپنا موقف واضع کرنا چاہتی ہے کہ 21 نومبر 2022 کے نوٹیفکیشن کا کیس ہائی کورٹ میں چلنے کے باوجود اس طرح کم آبادی پر ضلع بنانے کی ہر سطح پر مخالفت کرینگے اور پشین کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع پشین کے عوام الناس کو زیادہ آبادی کا مسئلہ درپیش ہے اور وہ نئے ضلع کا قیام آبادی کے مناسب طریقے سے تقسیم کی حمایت کریں گے یہاں پر نہ قبائلی مسئلہ اور نہ کسی کے ذات یا قبیلے کا مسئلہ ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ قبائل کو غیر فطری تقسیم کے ذریعے دست وگریبان کرنے کے بجائے 21 نومبر 2022 کا 295000 آبادی اور پورے حلقہ پی بی 47 پر مشتمل ہیU ضلع برشور کا قانونی نوٹیفکیشن بحال کیاجائے اور ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ برشور اور کاریزات کے مشران آپس میں یہاں حکومتی فیصلے کے ذریعے حل کرائیں۔ ہمارا حکومت بلوچستان سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ ضلع برشور کاریزات بننے کے بعد پوری طورپر تحصیل حرمزئی، تحصیل کربلا، اور تحصیل سرانان اور حلقہ PB-49 پر مشتمل ایک اور ضلع حرمزئی کے ساتھ تحصیل ڈب منزکء، تحصیل علی زئی اور تحصیل یارو قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے

