کوئٹہ(این این آئی)کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو) نے صوبہ کے اُن تمام زرعی ٹیوب ویل کنکشنز کیسکوکے نیٹ ورک سے منقطع کردئیے جنہیں حکومت کی جانب سے شمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبے میں شامل کئے گئے تھے۔اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے صوبہ کے 25ہزار678زرعی صارفین کو سولرائزیشن منصوبے کی مدمیں رقوم کی فراہمی کے بعدکیسکوٹیموں نے اُن تمام زرعی ٹیوب ویلوں کے برقی کنکشنز منقطع کردئیے۔ اس دوران مختلف مراحل میں صوبہ بھرمیں زرعی صارفین کے 14ہزار288 ٹرانسفارمرزاوردیگر برقی آلات اُتارکر کیسکواسٹورزمیں جمع کرادئیے گئے۔جس میں کیسکوسینٹرل سرکل (کوئٹہ)کے 1083، خضدارسرکل کے 5413،پشین سرکل کے 3320، لورالائی سرکل کے3904ٹرانسفارمرز،سبی سرکل کے454 جبکہ مکران سرکلکے 114زرعی ٹرانسفارمرزشامل ہیں۔ اس طرح صوبہ بھرمیں شمسی توانائی پر منتقل ہونے والے زرعی کنکشنوں سے منسلک ٹرانسفارمروں کی واپسی کاتناسب صرف 56فیصد ہے۔علاوہ ازیں شمسی توانائی پر منتقل ہونے اورحکومت کی جانب سے رقوم کی وصولی کے باوجود 11ہزار390 زرعی صارفین نے ابھی تک ٹرانسفارمرزاوردیگر برقی آلات کیسکوٹیموں کے حوالے نہیں کئے ہیں جن میں سینٹرل سرکل کوئٹہ کے 788، خضدارکے 4772، مکران کے 49، پشین کے 3817، لورالائی کے 1336اور سبی سرکل کے 628زرعی صارفین شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سولرائزیشن منصوبہ کے تحت حکومت کی جانب سے زمینداروں کو20لاکھ روپے (فی کنکشن)ملنے کے بعد تمام زرعی صارفین نے اپنے ٹرانسفارمرز،کھمبے اور دیگر برقی آلات کیسکوکو واپس کرنے کے پابندہیں۔ جسکے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان زرعی سولرائزیشن اور بجلی چوری کی روک تھام کامسودہ قانون مصدرہ2025 بھی منظوری بھی عمل میں لائی گئی ہے اورمذکورہ قانون کے تحت ٹرانسفارمرز، کھمبے اور برقی آلات واپس نہ کرنے کی صورت میں اُن زمینداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کیسکونے شمسی توانائی پرمنتقل ہونے والے اُ ن تمام زرعی صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منصوبہ کی تکمیل کیلئے اپنے زرعی ٹرانسفارمرز اوردیگر برقی آلات اور کھمبوں کی واپسی کے عمل میں کیسکوسے تعاون کریں۔

