تربت (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جدید ترین ہتھیاروں سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ خود کو عالمی امن کا علمبردار قرار دیتا ہے، مگر اس کی خارجہ پالیسی میں واضح دوہرا معیار دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے والی پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح اسرائیل کو غیر مشروط سیاسی اور عسکری حمایت فراہم کرنا خطے میں کشیدگی کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ ایران کے خلاف دباؤ، پابندیوں اور عسکری دھمکیوں کی سیاست مسائل کے حل کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ان کے بقول طاقت کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روح کے منافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بڑی طاقتیں خود ہی بین الاقوامی اصولوں کو نظرانداز کریں گی تو عالمی نظام کی ساکھ کیسے برقرار رہ سکے گی؟
انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پراکسی تنازعات اور اقتصادی عدم استحکام کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ توانائی کی عالمی منڈی، عالمی معیشت اور سلامتی کے ڈھانچے پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ مذاکرات، سفارت کاری اور برابری کی بنیاد پر بات چیت ہی وہ راستہ ہے جو کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں طاقت کے استعمال کے بجائے انصاف پر مبنی اور پائیدار سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
آخر میں انجنیئر حمید بلوچ نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی گئی تو یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، جس کی ذمہ داری تاریخ ان قوتوں پر عائد کرے گی جو طاقت کے زعم میں امن کو نظرانداز کرتی ہیں۔

