کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ گورنمنٹ پریس کراچی، جو صوبائی حکومت کا ایک نہایت حساس اور اہم ادارہ تصور کیا جاتا ہے اور جہاں سالانہ صوبائی بجٹ سمیت دیگر سرکاری دستاویزات کی طباعت کا عمل انجام دیا جاتا ہے، وہاں ریٹائرڈ افسران کی مبینہ مداخلت اور کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار منور حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ گورنمنٹ پریس اس وقت سابق ریٹائرڈ افسران کے زیرِ اثر ہے جو باقاعدہ طور پر ادارے میں موجود رہ کر امور چلا رہے ہیں۔جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا واضح حکم ہے کہ کوئی بھی ریٹائرڈ ملازم دوبارہ تعینات نہیں ہوسکتا ہے اس ادارے میں سپریم کورٹ احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے جبکہ ادارے میں ریٹائرڈ کنٹرولر فہیم قریشی، جو ایک سال قبل ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہیں، تاحال ادارے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور اپنی ریٹائرڈ ٹیم کے ہمراہ معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔منور حسین شاہ کے مطابق اس ٹیم میں سلیم الرحمن شامل ہیں جو تین سال قبل ریٹائرڈ ہو چکے ہیں مگر بدستور ادارے میں سرگرم ہیں۔ دیگر ناموں میں مشرف علی ہاشمی، محمد تمکین اور ٹیکنیکل اسٹاف سے تعلق رکھنے والے فصیح حیدر شامل ہیں، جن پر مبینہ طور پر سابق کنٹرولر کی سرپرستی میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ انہی افراد کی مبینہ مداخلت کے باعث محکمانہ ترقی کمیٹی (DPC) کا انعقاد بھی رکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سینئر ملازمین، جن کے نام پروموشن لسٹ میں شامل ہیں، ترقی سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے ادارے کے ملازمین میں شدید بے چینی اور احساسِ محرومی پایا جا رہا ہے۔منور حسین شاہ نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس حکومت سندھ اور صوبائی وزیر محنت جام اکرام اللہ دھاریجو سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا حکم دیں۔ انہوں نے کہا کہ قابض ریٹائرڈ افسران کو عہدوں سے ہٹایا جائے، فوری طور پر ڈی پی سی کا انعقاد یقینی بنایا جائے اور حق دار ملازمین کو ان کی ترقی کا جائز حق دیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو ملازمین احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

