بلدیہ کراچی کے افسران اینٹی کرپشن میں طلب، فلاحی زمین پر دکانوں کی مبینہ غیر قانونی لیز کا انکشاف

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ کراچی کے کرپٹ افسران فیصل رضوی، ناصر رزاق، جمال اختر کی اینٹی کرپشن میں طلبی۔ 40دکانیں یو سی ڈی کی فلاحی زمین پر پارٹ پلان بنا کر کمرشل کرکے لیز کردی گئیں۔ فی دکان 50لاکھ رشوت لی گئی۔ دکانوں کی مالیت فی دکان ڈیڑھ کروڑ روپے ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر خالد اعوان نے ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ دیگر ملزمان میں سید عمیر علی(لینڈ سرویئر)، عارف قاضی (ایڈیشنل ڈائریکٹر)امتیاز احمد بھی شامل ہیں۔ فیصل رضوی جعلی دستاویزات، جعلی افسر، جعلی آکشن کیس میں پہلے ہی اینٹی کرپشن عدالت میں ضمانت پر ہیں۔ دس سال کی تنخواہیں امریکہ میں ہونے کے باوجود وصول کیں۔ جبکہ نہ ایکس پاکستان چھٹی لی اور نہ ہی کوئی ریکارڈ موجود تھا۔ لیب اٹینڈنٹ سے افسر کیسے بنے تحقیقات ہو رہی ہے۔ ایچ آر ایم کے فیصل رضوی کے کرپشن پارٹنر سیف عباس نے ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔ معاملہ نیب کا ہے اینٹی کرپشن کی بات چیت میں انکشاف کیا گیا ہے۔ 40دکانوں کی مالیت 60کروڑ سے زائد ہے۔ فیصل رضوی نے تیسرے کرپشن پارٹنر سہیل احمد کے زریعے لیزوں کی منسوخی کا کیس داخل کرکے نیب اور اینٹی کرپشن سے بچنے کی کوشش شروع کردی۔ متاثرین نیب چلے گئے کرپشن کے ثبوت بھی فراہم کریں گے لیزی کا دعوی۔ ہم سے فیصل رضوی نے خود پیسے وصول کئے۔ ہم سے کہا کہ مئیر کو دس لاکھ فی دکان، افضل زیدی کو پندرہ لاکھ فی دکان، سسٹم کو دس لاکھ فی دکان جائیں گے۔ چالان اور ہمیں تھوڑے سے پیسے بچیں گے۔ معظم قریشی کا نام لیا کہ وہ مئیر کے پیسے لیتا ہے۔ پیسے دیتے وقت ثبوت رکھے تھے۔ اس سوال کے جواب میں کہ جب قبضہ نہیں تھا تو کس قانون کے تحت آپکو جگہ لیز کی لیزی نے کہا کہ رشوت کے عوض۔ ایک دکان اضافی فیصل رضوی نے اپنے لئے بھی مانگی۔ حساس ادارے کے ایک فرد سے بات کرائی جس نے کہا کہ پیسے دے دو نو نمبر فون پر لکھا آرہا تھا۔ معلوم نہیں وہ واقعتا حساس ادارے کا تھا یا نہیں۔ فیصل رضوی نے کہا کہ ہم پکا کام کر رہے ہیں پرانے افسران کے دستخط سے دستاویزات بنا دیں گے۔ اینٹی کرپشن نے جعلی دستاویزات بنانے کا بھی الزام تحقیقات میں لگایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اینٹی کرپشن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ایک کروڑ رشوت کی بھی آفر ہوئی ہے۔ مئیر آفس نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ لیزی نیب پہنچ گئے اینٹی کرپشن سے انصاف کی توقع نہیں۔ نئے میونسپل کمشنر سے بھی ملاقات کریں گے۔ مئیر کراچی کرپٹ افسران کے محافظ ہیں ہم نیب سے امید رکھتے ہیں لیزی افراد کا الزام سامنے آگیا۔ خالد اعوان نے شفاف انکوائری کا عندیہ دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں