کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں پر پولیس تشدد کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

کراچی: سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے سے گرفتار جماعت اسلامی کے کارکنان پر پولیس تشدد کے خلاف عدالت نے مقدمہ درج کرنے کاحکم دے دیا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف تحقیقات اور مقدمہ درج کرے۔

انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت کی جج سارہ جونیجو کے روبرو دورانِ سماعت جماعت اسلامی کے وکیل طاہر اقبال ملک ایڈووکیٹ نے درخواست کی کہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ 2022کے اسپیشل قانون کی سیشن فائیو اور سب سیکشن ٹو کے تحت کسٹڈی میں ٹارچر کے خلاف تحقیقات کا حکم جاری کیاجائے۔

وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گرفتار کارکنان کی میڈیکو لیگل رپورٹ میں پولیس تشدد ثابت ہوچکاہے ۔ پولیس نے گرفتار کارکنان کو شدید تشدد کے بعد جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیاتھا ۔ پولیس تشدد سے زخمی کارکنان کو فریکچر، انجریز اور ہیڈ انجریز تھیں ۔

عدالتی حکم کے مطابق جو ڈیشیل مجسٹریٹ نے گرفتار کارکنان کے میڈیکو لیگل رپورٹ کا حکم دیاتھا۔ میڈیکو لیگل رپورٹ انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں پیش کی گئی جس میں ثابت ہواکہ کارکنان پر پولیس تشدد کیا گیا۔ میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق کارکنان پر پولیس تشدد کیاگیا۔

انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت نے ایف آئی اے کو پولیس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا۔ عدالتی حکم پر ایف آئی اے آرام باغ پولیس کے متعلقہ افسران واہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے کارروائی کرے گی۔

وکیل طاہر علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ 2022کے اسپیشل قانون کے مطابق یہ کیس ناقابل ضمانت اور ناقابل راضی نامہ ہے۔

واضح رہے کہ 14فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے کامقدمہ پولیس نے جماعت اسلامی کے 34کارکنان پرانسداد دہشتگردی کی دفعات سمیت دیگر کے تحت درج کیاتھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں