اسلام آباد/لاہور (این این آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں اس امر پر زور دیا ہے کہ اسلام آباد مسلمان ممالک سے مل کر ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے جاندار کردار ادا کرے۔جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں امیر جماعت اسلامی نے پاکستان اور افغانستان تنازعہ کے خاتمہ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ پاک افغان صورتحال اور ایران میں جاری کشیدگی کا براہ راست تعلق ملکی سلامتی سے ہے۔ وزیراعظم اور حافظ نعیم الرحمن کی وفود پر مشتمل ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی۔ امیر جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امرء لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم اور ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ آصف لقمان قاضی شامل تھے جب کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطااللہ تارڈ، رانا مبشر اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وزیرمملکت طلال چودھری وزیر اعظم کے وفد کا حصہ تھے۔ ان کیمرہ بریفنگ / ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی، پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی کیفیت، بلوچستان کے مسائل کے حل اور آئی پی پیز کے معاہدوں کے باعث بجلی کے بلوں میں عوام پر پڑنے والے بوجھ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امیر جماعت اسلامی نے ان موضوعات پر اپنا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد مسلم دنیا کو مثبت کردار ادا کرتے ہوئے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنا چاہیے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے ایران اور افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں، اس لیے پاکستان کو دونوں ممالک کے ساتھ بہتر روابط اور سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ حکومتی ٹیم نے امیر جماعت اسلامی کو پاکستان کی سفارتی کوششوں و اقدامات سے آگاہ کیا اور ایران اور خلیجی ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں کی جانب سے پاکستانیوں کی سہولت کیلئے اقدامات پر بھی آگاہی دی۔مزید برآں حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد میں قطر کے سفیر علی بن مبارک الخاطر سے سفارت خانہ میں ملاقات کی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے ڈائیریکٹر امور خارجہ آصف لقمان قاضی بھی امیر جماعت کے ہمراہ تھے۔ ملاقات میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی، ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور غزہ میں جاری جنگ و انسانی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پورے خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمان ممالک کو تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔انہوں نے ماضی میں قطر کی غزہ اور افغانستان پر پالیسی کو سراہا اور کہا کہ اس سے قطر کے وقار اور احترام میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے قطر کی سفارتی کاوشیں قابل قدر ہیں اور جماعت اسلامی توقع کرتی ہے کہ قطر پاکستان اور افغانستان میں جاری کشیدگی کے خاتمہ کے لیے مصالحانہ کردار ادا کرے گا۔ جماعت اسلامی پاک افغان جنگ کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے پاکستان اور قطر کے درمیان معاشی و اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔قطر کے سفیر علی بن مبارک الخاطر نے کہا کہ قطر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش رکھتا ہے۔

