کراچی میں جعلی آکشن اور رشوت کیس: فیصل رضوی و عمیر سکندر عدالت میں زیرِ انکوائری

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عمیر سکندر کی رشوت ستانی اور ماروائے قانون وصولیوں جعلی آکشن کے کرداروں کو ایک کروڑ لے کر کھپانے کی تیاری میں تیزی آگئی۔ SCUGکے ضمیر عباسی کی نوازشات سے دو نمبر طریقے سے بھرتی کئے گئے عمیر سکندر جنکی نیب میں میگا کرپشن انکوائری چل رہی ہے اورنگی کی زمینوں پر ہاتھ صاف کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ انکشاف اورنگی ہی کے ایک سینئر افسر نے کیا۔ بتایا کہ عمیر سکندر فراز شیخ کو چونا لگا کر فیصل رضوی کے دست راست بن چکے ہیں۔ جعلی آکشن میں ایک ارب سے زائد کی کرپشن کرنے والے فیصل رضوی جو مئیر کو چونا لگا چکے ہیں اور انکے اشاروں پر بھاری رشوت لے کر میونسپل کمشنر افضل زیدی نے مئیر کو گمراہ کرکے ایک ایسے آکشن کی منظوری کرائی جو مئیر کے مواخزے کا سبب بن سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جعلی آکشن ہوتے ہی اینٹی کرپشن کورٹ میں کیس داخل ہوگیا اور اسکے بعد افضل زیدی نے مئیر کو سچائی بتائے بغیر ایک ماہ بعد کونسل سے منظوری کرائی جبکہ حقیقت یہ تھی کہ آکشن کے لئے جگہ پر کسی قسم کی تجاوزات نہ ہوں لیز نہ ہوں عدالت میں کیس داخل نہ ہو لیکن عدالت سے جگہ پر ڈگری ہونے کے باوجود فیصل رضوی نے اخبار میں اشتہار دیئے بغیر اپنے 1992سے1997تک ٹھیکوں میں پول کرانے والے دھندھوں کی طرح آکشن من پسند افراد کو ضابطے کی کاروائی کے بغیر سب سے کم بولی والے کو دے دیا ہائیسٹ بڈر کو نہیں دیا گیا۔ اسی طرح جب اینٹی کرپشن انکوائری ہوئی تو میونسپل کمشنر کے چیمبر میں بیٹھ کر سیف عباس نے سٹی گورنمنٹ کے سینئر ڈائریکٹر لینڈ والے پیریڈ کی کاغزی کاروائی اور جعلی دساتویزات تیار کرکے پرانی تاریخوں میں آکشن کے پیپرز بنائے اور آکشن جعلی کمیٹی بنا کر سسٹم افسران کے دستخط لئے جس میں سہیل احمد کو رکھا گیا۔ جبکہ کرپٹ ٹیم کے اراکین اطہر نقوی، فیصل رضوی اور دیگر ممبر تھے۔ لیکن اسکے باوجود کاروائی مکمل نہیں کرسکے۔ فیصل رضوی نے رشوت کی رقم افضل زیدی، معظم قریشی، سیف عباس، سسٹم افراد اور خود رکھ لی باقی چالان جمع کرادیئے۔ ایک ارب رشوت لی گئی۔ مختلف ایس ٹیزنمٹا دی گئیں۔ لیکن یہ کھیل فیصل رضوی کو مہنگا پڑھ گیا۔ اینٹی کرپشن کورٹ نے فیصل رضوی، ناصر رزاق اور جمال اختر کی ایف آئی آر کٹوا دی جس پر تینوں ضمانت پر ہیں۔ عدالت میں آکشن چیلنج ہو چکا ہے۔ اسکے باوجود ایک کروڑ رشوت لے کر فیصل رضوی کے کہنے پر تین دن سے عمیر سکندر، سید عمیر علی اور دیگر اورنگی میں بڈرز کو لے کرگھوم رہے ہیں۔ جبکہ عمیر سکندر کے اکاونٹ میں بھری رقم بھی ڈالی گئی ہے۔ انہیں ایک گاڑی بھی گفٹ کی گئی ہے کرپشن اور قانون سے کھلواڑ کی بدترین مثال قائم ہو رہی ہیں۔ عمیر سکندر عدالتوں کو گمراہ کرنے ریکارڈ ہونے کے باوجود فراہم نہ کرنے اور پارٹیز سے رقوم لینے میں مصروف ہیں انکا کہنا ہے کہ 17مارچ کو ہمیں ہٹا دیا جائے گا تین ماہ کے لئے لگایا تھا۔ ہم بھوکے کیوں مریں؟ عیدی مہم اور حصہ انسداد تجاوزات سے لی جارہی ہے۔ جبکہ عمیر سکندر کو پرانے کام نمٹانے اور ہر انٹری کے عوض فیصل رضوی سے بھاری رقم مل رہی ہے۔دس چالان بکس جو تبادلے کے وقت فیصل رضوی جاوید پٹھان سے لے گئے تھے گورکھ دھندوں کی نظر ہیں۔ فراز شیخ کی خاموشی جرم کی پردہ داری ہے۔ ریکارڈ میں ردو بدل بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔ جبکہ عمیر سکندر کو توہین عدالت میں کسی بھی وقت طلب کیا جا سکتا ہے۔ مئیر کراچی کو کرپشن روکنے کے لئے عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں