بلوچستان میں خوراک و ایندھن جیسی بنیادی اشیاء کی فراہمی بہت بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے،سینیٹر عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ایرانی سفارت خانے کے ایک خصوصی وزٹ کے موقع پر کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں نے خطے میں خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے. اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ان واقعات کے دوران پاکستان،ایران سرحدی گزرگاہیں عارضی طور پر بند کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ تفتان بارڈر کے راستے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت ہوتی ہے جس سے اطراف کے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے. پاکستانی اور ایرانی بلوچستان کے اہم علاقوں میں خوراک و ایندھن جیسی بنیادی اشیاء کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس سے مقامی مارکیٹوں میں اشیاء کے نرخوں میں اضافہ اور رسد میں کمی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے حالیہ بحران میں پاکستانی سیاسی رہنماؤں، سماجی گروپوں اور عوامی مظاہروں نے ایران کے خلاف حملوں کی شدید مذمت کی ہے. سنی شیعہ کی تخصیص کے بغیر ملک بھر میں تمام مکتبہ ہائے فکر کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف عوامی جذبات عروج پر نظر آئے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متوازن اور مستحکم رکھنا ہوگا تاکہ وہ علاقائی تنازعات میں ملوث نہ ہو. زر مبادلہ، تجارت اور معاشی رابطوں کو یقینی بناتے ہوئے پاک،ایران سرحد کو دوبارہ کھولنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں نہ صرف دونوں ملکوں کی سرحدی معیشت کو فروغ دیں گی بلکہ عوامی رابطے اور امن کے امکانات کو بھی بڑھائیں گی۔ حکومت علاقائی کشیدگی کے باوجود پاک،ایران سرحد کھول کر باہمی تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو تقویت دے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر اطراف کے بلوچستان کی عوام کو اقتصادی بحران سے بچایا جا سکے، تجارتی روابط مضبوط ہوں، اور دونوں پڑوسی ممالک کے مابین اعتماد و تعاون کو فروغ ملے — جو کسی بھی ممکنہ بحران میں پائیدار امن کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں