ایران جنگ کب ختم ہوگی؟ ٹرمپ کا بڑا بیان سامنے آگیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی ترسیل متاثر کرنے کی کوشش کی تو امریکا پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملے کرے گا۔

فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کی تو ایران پر بیس گنا زیادہ سخت حملے کریں گے۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے بعض اہم اہداف خصوصاً بجلی پیدا کرنے کے مراکز ابھی تک نشانہ نہیں بنائے گئے لیکن ضرورت پڑی تو انہیں بھی تباہ کیا جاسکتا ہے۔

ایران جنگ خاتمے کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ جنگ کا خاتمہ جلد ہوسکتا ہے تاہم یہ رواں ہفتے ممکن نہیں ہے۔

ادھر امریکی صدر نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت پر تیار ہیں تاہم یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ مذاکرات کی شرائط کیا ہوتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ اگر مناسب شرائط ہوں تو امریکا بھی ایران کے ساتھ بات کرنے پر غور کرسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ نئے سپریم لیڈر خطے میں امن کے ساتھ رہ سکیں گے۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ ایران کرے گا۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ایران جنگ سے عالمی منڈیوں میں بھی جنگ کے اثرات دیکھنے میں آئے جہاں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں عارضی طور پر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں تاہم بعد میں کمی آکر تقریباً 90 ڈالر تک آگئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں