بلوچستان اسمبلی اجلاس،پبلک سروس کمیشن ترمیمی مسودہ قانون2026 پیش،سپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا

کوئٹہ (این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن ترمیمی مسودہ قانون2026 پیش،اسپیکر نے مسودہ قانون کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن ترمیمی مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے رکن انجینیئرزمرک خان اچکزئی نے کہا مسودہ قانون کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے جس پر وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا بلوچستان پبلک سروس کمیشن اہم ترین ادارہ ہے جو مستقبل کے بیوروکریٹس اور سرکاری ملازمین جنہوں نے اس ایوان کی بنائی ہوئی پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہے کی بھرتی کرتا ہے ماضی میں پبلک سروس کمیشن میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے 2013 میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی حکومت میں پبلک سروس کمیشن کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا گیا اور اس میں جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی کا بہت بڑا کردار تھا کچھ عرصہ قبل ہم پر ایک کڑا امتحان ایا ہم نے نئے تجربے کے بجائے پہلے سے تجربہ کار شخصیت کو تعینات کرنے جارہے ہیں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو اخلاقی پستی سے نکال کر میرٹ کی جانب لے کر جانا ہے جس کے لیے جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی بہترین شخصیت ہیں ان پر کوئی بھی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گڈ گورننس پر خصوصی توجہ دی ہے اسپیشل برانچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان بورڈ میں بھی نقل میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج اس قانون کو منظور کر کے ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا میں اس بل کی مکمل حمایت کرتا ہوں جسٹس کیلاش ناتھ کوہلی ایماندار شخص ہیں بلوچستان میں بہت سے اچھے لوگ ہیں ہم نے اپنے دور میں انہیں ڈھونڈ کر لگایا نوجوانوں کو پبلک سروس کمیشن کے علاوہ اب کسی جگہ سے امید نہیں وہ 18، 18 گھنٹے تیاری کر رہے ہیں لہذا پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے جس پر انجینیئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ انہیں قانون پر اعتراض نہیں بلکہ حکومت اور چیئرمین تبدیل ہونے کے بعد اس قانون کا مستقبل میں غلط استعمال ہو سکتا ہے لہذا اس پر غور کیا جانا چاہیے جس پر وزیراعلی نے کہا کہ ترمیم میں صرف ایک بار کے لیے چیئرمین کی تعیناتی شامل کر دیتے ہیں تاکہ مستقبل میں کوئی اس قانون کو غلط استعمال نہ کرے جس پر سپیکر نے ایوان کو اگاہ کیا کہ موجودہ کاروائی میں یہ ترمیم ممکن نہیں ہے چونکہ چیئرمین کی تعیناتی آرڈیننس کے ذریعے کی گئی ہے لہذا جو بھی ترمیم ہوگی وہ کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی جس پر ایوان کی مشاورت سے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کا ترمیمی ارڈیننس 2026 متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں